نُورِ ہدایت — Page 390
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس اقتباس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام پر جو آپ عالی کام کی نظر میں ہے، روشنی پڑتی ہے۔اگر فطرت نیک ہو تو آپ پر اعتراض کرنے والوں کے لئے یہ کافی جواب ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے علیحدہ ہو کر آپ کا کچھ بھی مقام نہیں ہے اور ہم اس وقت تک خدا تعالیٰ کے نور سے فیضیاب ہو سکتے ہیں جب تک اُس آفتاب ہدایت کے سامنے کھڑے رہیں گے جسے خدا تعالیٰ نے سراجا منیرا کہا ہے۔سورۃ مائدہ کی دوسری آیت 17 جو میں نے پڑھی تھی اس میں تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ دوٹور ہیں۔ایک حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور دوسرا قرآن کریم۔گزشتہ آیت کا حوالہ دیتے ہوئے اب اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ یہی دو چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنیں گی اور ہیں اور یہی دو چیزیں ہیں جو سلامتی کی راہوں کی طرف لے جانے والی ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ ہیں۔سلامتی کی را ہیں کیا ہیں؟ یہ خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے یا پہنچانے کے مختلف راستے ہیں جو محفوظ طریقہ سے خدا تعالیٰ تک پہنچاتے ہیں۔ہر راستہ پر شیطان بیٹھا ہے لیکن سلامتی کی راہیں وہ ہیں جہاں اللہ تعالیٰ تک انسان شیطان سے بچ کر پہنچ جاتا ہے اور نور سے فیض پاتا ہے۔اور یہ سلامتی کی راہیں ان کو ملتی ہیں جو خدا تعالیٰ کے فضل سے ہدایت پاتے ہوئے اس کی رضا کی تلاش میں رہتے ہیں۔اس کے قدم پھر اندھیروں سے نکل کر نُور کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں۔وہ صراط مستقیم پر چل پڑتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اس کی روشن کتاب سے فیض پانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا کی پیروی کی ضرورت ہے یا اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ان دونوں چیزوں سے نجڑ نا ضروری ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اللہ تعالیٰ کی رضا کا جو رض اعلیٰ ترین نمونہ ہے وہ آپ کی تربیت کی وجہ سے، قوت قدسی کی وجہ سے آپ کے صحابہ نے دکھایا۔اور وہ لوگ پھر صرف اندھیروں سے روشنی کی طرف ہی نہیں آئے بلکہ انہوں نے رَضِيَ الله عنہم کا اعزاز پایا۔پس صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان ٹوروں سے فیض پا کر 390