نُورِ ہدایت — Page 370
کے دین کی مدد تم پر فرض ہے اور یہی چیز پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹتے ہوئے تمہیں اللہ تعالی کی مدد سے حصہ لینے والا بنائے گی۔تمہارے ایمان مضبوط ہوں گے اور تم ایک جماعت کہلاؤ گے اور خاص طور پر مسیح موعود کے زمانہ میں جب تجدید دین ہونی ہے تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ خدا تعالیٰ کے فرستادہ کی مدد کریں۔اگر یہ مدد کریں گے تو پھر وہ اللہ تعالیٰ کی مدد کے نظارے دیکھیں گے اور ایمان نہ لانے والوں کا پہلے انبیاء کے منکرین والا حال ہو گا۔آج بھی مسلمانوں کے لئے یہ سوچنے کا مقام ہے۔میں کئی مرتبہ پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تو مدد اور نصرت کا ہے۔اللہ تعالیٰ کا تو وعدہ روشنیوں کی طرف لے جانے کا ہے لیکن مومن کہلانے کے باوجود اخباروں میں کالم نویس جو ہیں یہ لکھتے ہیں کہ ہم ایمان میں کمزوری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ہم روشنیوں سے اندھیروں کی طرف جارہے ہیں۔ہم مادی لحاظ سے بھی ترقی کی بجائے تنزل کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں۔کون سی ایسی برائی ہے جو اس وقت ہم میں نہیں۔یہ ان کے خود اپنے لکھنے والے لکھتے ہیں۔پس کہیں نہ کہیں ہم نے اس خدا کو ناراض کیا ہوا ہے جو مومنوں کا مولیٰ ہے۔اب بھی سوچنے کا وقت ہے کہ اپنے اندر ایمان کی روشنی پیدا کریں۔اللہ کے دین کی نصرت کے لئے آگے آئیں۔وقت کے امام کی پہچان کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام پہنچائیں۔(خطبہ جمعہحضرت خلیفة اسم الخامس ایدہ اللہ تعال فرموده 23 اکتوبر 2009ء، خطبات مسرور لدبلتم صفر 495-499) حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خطبہ جمعہ فرمودہ 4 دسمبر 2009ء میں سورۃ البقرہ کی آیت 258 کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یا اس میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا ولی ہے جو ایمان لانے والے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ ولی ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے انہیں اندھیروں سے نور کی طرف نکالتا ہے۔اس آیت کا پہلے بھی کسی خطبے میں ذکر ہو چکا ہے لیکن وہاں لفظ ولی اور اللہ تعالیٰ کی صفت ولی کے حوالے سے یہ ذکر ہوا تھا۔لیکن آج میں اللہ تعالیٰ کی جو صفت نور ہے یا لفظ نُور ہے اس کے حوالے سے بات کروں گا۔370