نُورِ ہدایت — Page 342
سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں تو دوسری جگہ آتا ہے۔الْأَخِلَّاءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ (زخرف (68) یعنی متقیوں کے سوا تمام خلیل ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔پھر جب متقیوں کی دوستی رہے گی تو لاخلہ کا کیا مطلب ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ متقی چونکہ خدا تعالیٰ کو ہی اپنا خلیل سمجھتے ہیں اس لئے ان کی دوستی خدا تعالی کی دوستی میں شامل ہوگی اس کا کوئی علیحدہ وجود نہیں ہو گا جو وَلا خُلة کے منافی ہو۔اصل مضمون جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو توجہ دلائی ہے وہ یہ ہے کہ آج اگر خدا تعالیٰ کو خلیل بنانا ہے تو بنا لو ورنہ اس دن وہ خلیل نہیں بنے گا۔اور آج جن کو تم اپنا خلیل بنا رہے ہو ان کی خُلت اور دوستی اس دن تمہارے کسی کام نہیں آئے گی بلکہ تم ان کے دشمن بن جاؤ گے۔صرف متقی ہی ایسے ہوں گے جو اپنے خلیل کے دشمن نہیں ہوں گے۔کیونکہ مومن کا خلیل خدا تعالیٰ ہوتا ہے۔پس وَلَا خُلہ سے مراد وہ خُلت ہے جو خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں کسی دوسرے سے کی جائے۔وَلَا شَفَاعَةُ میں بتایا ساتھی بنالو۔ورنہ وہاں تمہیں کوئی ساتھی نہیں ملے گا۔دوسری جگہ فرماتا ہے۔وَانْذِرُ بِهِ الَّذِيْنَ يَخَافُونَ أَن تُحْشَرُ وا إِلَى رَبِّهِمْ لَيْسَ لَهُمْ مِنْ دُونِهِ وَلِيٌّ وَلَا شَفِيعٌ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ ( انعام (52) یعنی تو اس کلام کے ذریعہ سے ان لوگوں کو جو اس بات سے ڈرتے ہیں کہ انہیں ان کے رب کی طرف اکٹھا کر کے لے جایا جائے گا جب کہ اُس کے سوانہ ان کا کوئی مددگار ہوگا اور نہ کوئی سفارشی اس لئے ڈرا کہ وہ تقویٰ اختیار کریں۔اسی طرح ایک اور جگہ فرماتا ہے۔وَذَكِّربة أن تُبسَلَ نَفْسٌ بِمَا كَسَبَتْ لَيْسَ لَهَا مِنْ دُونِ اللهِ وَلِيٌّ وَلَا شَفِيعٌ وَإِنْ تَعْدِلُ كُلَّ عَدْلٍ لَّا يُؤْخَذُ مِنْهَا (انعام (71) یعنی تو اس کلام الہی کے ذریعہ سے نصحیت کر تا ایسا نہ ہو کہ کسی جان کو اس کے کماتے ہوئے کے سبب سے اس طرح ہلاکت میں ڈال دیا جائے کہ خدا تعالیٰ کے سوا اس کا نہ کوئی مددگار ہو اور نہ شفیع۔اور اگر وہ ہر ایک قسم کا بدلہ بھی دیں تو ان سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں خدا تعالیٰ کو ولی اور شفیع بنانے والوں کو تو اس دن 342