نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 335 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 335

ہے تم زبر دستی تلوار کے ذریعہ لوگوں کو مسلمان کرو۔بلکہ یہ کہا کہ تم مظلوم ہو، اب مقابلہ کرو۔مظلوم کو تو ہر ایک قانون اجازت دیتا ہے کہ حفظ جان کے واسطے مقابلہ کرے۔( البدر جلد 2 نمبر 1 ، 2 مورخہ 23 و 30 جنوری 1903 ، صفحہ 3) یہ اعتراض کہ اگر جہاد اب جائز نہیں تو اسلام میں اول زمانہ میں کیوں تلوار سے کام لیا گیا؟ یہ معترضین کی اپنی غلطی ہے جو باعث ناواقفیت پیدا ہوئی ہے۔انہیں معلوم نہیں کہ اسلام دین کے پھیلانے کے لئے ہرگز جبر کی اجازت نہیں دیتا۔دیکھو کیسی ممانعت قرآن میں موجود ہے کہ فرماتا ہے کہ : لا اکراه فی الدین یعنی دین میں جبر نہیں کرنا چاہئے۔( گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے۔روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 631) الله ولى الذين امنوا تُخرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمتِ أوليك أصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خُلِدُونَ (البقرة 258) اللہ دوست دار ہے ان لوگوں کا جو ایمان لائے اور ان کو اندھیرے سے روشنی کی طرف نکالتا ہے۔( جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد 6 صفحه 87) خدا سے پورے طور پر ڈرنا بجز یقین کے کبھی ممکن نہیں۔تقویٰ کی باریک راہوں پر قدم مارنا اور اپنے عمل کو ریا کاری کی ملونی سے پاک کر دینا بجز یقین کے کبھی ممکن نہیں۔ایسا ہی دنیا کی دولت اور حشمت اور اس کی کیمیا پر لعنت بھیجنا اور بادشاہوں کے قرب سے بے پرواہ ہو جانا اور صرف خدا کو اپنا ایک خزانہ سمجھنا بجز یقین کے ہرگز ممکن نہیں۔اب بتلاؤ، اے مسلمان کہلانے والو! کہ ظلمات شک سے نوریقین کی طرف تم کیونکر پہنچ سکتے ہو؟ یقین کا ذریعہ تو خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمتِ إِلَى النُّوْرِ کا مصداق ہے۔( نزول المسیح، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 470) بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بہت نیکیاں کرنے سے انسان ولی بنتا ہے۔یہ نادانی 335