نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 331 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 331

عاجز آ جاتا ہے تو پھر تلوار یا بندوق کی طرف ہاتھ لمبا کرتا ہے مگر ایسا مذہب ہرگز ہرگز ! خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوسکتا جو صرف تلوار کے سہارے سے پھیل سکتا ہے نہ کسی اور طریق سے۔اگر تم ایسے جہاد سے باز نہیں آ سکتے اور اس پر غصہ میں آکر راستبازوں کا نام بھی دجال اور ملحد رکھتے ہو تو ہم ان دو فقروں پر اس تقریر کو ختم کرتے ہیں : قُلْ يَأْيُّهَا الْكَفِرُونَ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ (الكافرون (3-2) اندرونی تفرقہ اور پھوٹ کے زمانہ میں تمہارا فرضی مسیح اور فرضی مہدی کس کس پر تلوار چلائے گا؟ کیا سنیوں کے نزدیک شیعہ اس لائق نہیں کہ اُن پر تلوار اٹھائی جائے ؟ اور شیعوں کے نزدیک سُستی اس لائق نہیں کہ ان سب کو تلوار سے نیست و نابود کیا جاوے؟ پس جب کہ تمہارے اندرونی فرقے ہی تمہارے عقیدہ کی رُو سے مستوجب سزا ہیں تو تم کس کس سے جہاد کرو گے؟ مگر یاد رکھو کہ خدا تلوار کا محتاج نہیں وہ اپنے دین کو آسمانی نشانوں کے ساتھ زمین پر پھیلائے گا اور کوئی اُس کو روک نہیں سکے گا۔(کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 73 تا76 ) میں نہیں جانتا کہ ہمارے مخالفوں نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔خدا تو قرآن شریف میں فرماتا ہے : لا إكراه في الدين یعنی دین اسلام میں جبر نہیں۔تو پھر کس نے جبر کا حکم دیا اور جبر کے کون سے سامان تھے؟ اور کیا وہ لوگ جو جبر سے مسلمان کئے جاتے ہیں اُن کا یہی صدق اور یہی ایمان ہوتا ہے کہ بغیر کسی تنخواہ پانے کے باوجود دو تین سو آدمی ہونے کے ہزاروں آدمیوں کا مقابلہ کریں اور جب ہزار تک پہنچ جائیں تو کئی لاکھ دشمن کو شکست دے دیں اور دین کو دشمن کے حملہ سے بچانے کے لئے بھیڑوں بکریوں کی طرح سر کٹا دیں اور اسلام کی سچائی پر اپنے خون سے مہریں کر دیں اور خدا کی توحید کے پھیلانے کے لئے ایسے عاشق ہوں کہ درویشانہ طور پر سختی اٹھا کر افریقہ کے ریگستان تک پہنچیں اور اس ملک میں اسلام کو پھیلا دیں اور پھر ہر یک قسم کی صعوبت اُٹھا کر چین تک پہنچیں نہ جنگ کے طور پر بلکہ محض درویشانہ طور پر اور اس ملک میں پہنچ کر دعوتِ اسلام کریں جس کا نتیجہ یہ ہو کہ اُن کے بابرکت وعظ سے کئی کروڑ مسلمان اس زمین میں پیدا ہوجائیں اور 331