نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 330 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 330

ہے؟ سارا قرآن بار بار کہ رہا ہے کہ دین میں جبر نہیں اور صاف طور پر ظاہر کر رہا ہے کہ جن لوگوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت لڑائیاں کی گئی تھیں وہ لڑائیاں دین کو جبر آشائع کرنے کے لئے نہیں تھیں بلکہ یا تو بطور سزا تھیں یعنی اُن لوگوں کو سزا دینا منظور تھا جنہوں نے ایک گروہ کثیر مسلمانوں کو قتل کر دیا اور بعض کو وطن سے نکال دیا تھا اور نہایت سخت ظلم کیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : أَذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوْاوَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لقَدِيرُ (الحج (40) یعنی ان مسلمانوں کو جن سے کفار جنگ کر رہے ہیں بسبب مظلوم ہونے کے مقابلہ کرنے کی اجازت دی گئی اور خدا قادر ہے کہ جو ان کی مدد کرے۔اور یا وہ لڑائیاں ہیں جو بطور مدافعت تھیں یعنی جو لوگ اسلام کے نابود کرنے کے لئے پیش قدمی کرتے تھے یا اپنے ملک میں اسلام کو شائع ہونے سے جبراً روکتے تھے ان سے بطور حفاظت خود اختیاری یا ملک میں آزادی پیدا کرنے کے لئے لڑائی کی جاتی تھی بجز ان تین صورتوں کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مقدس خلیفوں نے کوئی لڑائی نہیں کی بلکہ اسلام نے غیر قوموں کے ظلم کی اس قدر برداشت کی ہے جو اس کی دوسری قوموں میں نظیر نہیں ملتی پھر یہ عیسی مسیح اور مہدی صاحب کیسے ہوں گے جو آتے ہی لوگوں کو قتل کرنا شروع کردیں گے یہاں تک کہ کسی اہل کتاب سے بھی جزیہ قبول نہیں کریں گے اور آیت : حتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَهُمْ صَغِرُونَ (التوبة (29) کو بھی منسوخ کر دیں گے۔یہ دین اسلام کے کیسے حامی ہوں گے کہ آتے ہی قرآن کی ان آیتوں کو بھی منسوخ کر دیں گے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی منسوخ نہیں ہوئیں اور اس قدر انقلاب سے پھر بھی ختم نبوت میں حرج نہیں آئے گا۔اس زمانہ میں جو تیرہ سو برس عہد نبوت کو گزر گئے اور خود اسلام اندرونی طور پر تہتر فرقوں پر پھیل گیا۔سچے مسیح کا یہ کام ہونا چاہئے کہ وہ دلائل کے ساتھ دلوں پر فتح پاوے نہ تلوار کے ساتھ اور صلیبی عقیدہ کو واقعی اور سچے ثبوت کے ساتھ توڑ دے نہ یہ کہ اُن صلیبوں کو توڑتا پھرے جو چاندی یا سونے یا پیتل یا لکڑی سے بنائی جاتی ہیں۔اگر تم جبر کرو گے تو تمہارا جبر اس بات پر کافی دلیل ہے کہ تمہارے پاس اپنی سچائی پر کوئی دلیل نہیں، ہر یک نادان اور ظالم طبع جب دلیل سے 330