نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 329 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 329

پھیلانا چاہئے بلکہ ہمیشہ اسلام اپنی ذاتی خوبیوں کی وجہ سے دنیا میں پھیلا ہے۔پس جولوگ مسلمان کہلا کر صرف یہی بات جانتے ہیں کہ اسلام کو تلوار سے پھیلانا چاہئے وہ اسلام کی ذاتی خوبیوں کے معترف نہیں ہیں اور ان کی کارروائی درندوں کی کارروائی سے مشابہ ہے۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15 صفحه 167 حاشیہ ) یہ جہالت اور سخت نادانی ہے کہ اس زمانہ کے نیم مثلا فی الفور کہہ دیتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جبراً مسلمان کرنے کے لئے تلوار اٹھائی تھی اور انہی شبہات میں نا سمجھ پادری گرفتار ہیں۔مگر اس سے زیادہ کوئی جھوٹی بات نہیں ہوگی کہ یہ جبر اور تعدی کا الزام اس دین پر لگایا جائے جس کی پہلی ہدایت یہی ہے کہ : لا اکراہ فی الدین یعنی دین میں جبر نہیں چاہئے بلکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بزرگ صحابہ کی لڑائیاں یا تو اس لئے تھیں کہ کفار کے حملہ سے اپنے تئیں بچایا جائے اور یا اس لئے تھیں کہ امن قائم کیا جائے اور جولوگ تلوار سے دین کو روکنا چاہتے ہیں ان کو تلوار سے پیچھے ہٹایا جائے۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15 صفحه 158) لا إكراه في الدين یعنی دین کو جبر سے شائع نہیں کرنا چاہئے۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 519) جس کتاب میں یہ آیت اب تک موجود ہے کہ : لا اکراہ فی الدین یعنی دین کے معاملہ میں زبر دستی نہیں کرنی چاہئے۔کیا اس کی نسبت ہم ظن کر سکتے ہیں کہ وہ جہاد کی تعلیم دیتی ہے؟ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 32) جس کام کے لئے آپ لوگوں کے عقیدوں کے موافق مسیح ابن مریم آسمان سے آئے گا یعنی یہ کہ مہدی سے مل کر لوگوں کو جبر مسلمان کرنے کے لئے جنگ کرے گا یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جو اسلام کو بدنام کرتا ہے۔قرآن شریف میں کہاں لکھا ہے کہ مذہب کے لئے جبر درست ہے؟ بلکہ اللہ تعالیٰ تو قرآن شریف میں فرماتا ہے : لا اکراہ فی الدین یعنی دین میں جبر نہیں ہے پھر مسیح ابن مریم کو جبر کا اختیار کیوں کر دیا جائے گا یہاں تک کہ بجز اسلام یا قتل کے جزیہ بھی قبول نہ کرے گا یہ تعلیم قرآن شریف کی کس مقام اور کس سیپارہ اور کس سورہ میں 329