نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 310 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 310

سے جولوگ اہل کشف ہوئے ہیں اور اُن میں سے اہل مجاہدہ نے دریافت کرنا چاہا تو عبودیت اور ربوبیت کے رشتہ میں امتیاز نہ کر سکے اور خلق الاشیاء کے قائل ہو گئے۔ر پورٹ جلسہ سالانہ 1897، صفحہ 138 ، 139) یعنی خدا ہی ہے جو قابل پرستش ہے کیونکہ وہی زندہ کرنے والا ہے اور اسی کے سہارے سے انسان زندہ رہ سکتا ہے۔یعنی انسان کا ظہور ایک خالق کو چاہتا تھا اور ایک قیوم کو، تا خالق اس کو پیدا کرے اور قیوم اس کو بگڑنے سے محفوظ رکھے۔سو وہ خدا خالق بھی ہے اور قیوم بھی۔اور جب انسان پیدا ہو گیا تو خالقیت کا کام تو پورا ہو گیا مگر قیومیت کا کام ہمیشہ کے لئے ہے، اسی لئے دائمی استغفار کی ضرورت پیش آئی۔غرض خدا کی ہر ایک صفت کے لئے ایک فیض ہے۔پس استغفار صفت قیومیت کا فیض حاصل کرنے کے لئے کرتے رہنے کی طرف اشارہ سورۃ فاتحہ کی اس آیت میں ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ یعنی ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی اس بات کی مدد چاہتے ہیں کہ تیری قیومیت اور ربوبیت ہمیں مدد دے اور ہمیں ٹھوکر سے بچاوے تا ایسا نہ ہو کہ کمزوری ظہور میں آوے اور ہم عبادت نہ کرسکیں۔( عصمت انبیاء علیہم السلام، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 672) هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ یعنی حقیقی حیات اسی کو ہے اور دوسری سب چیزیں اس سے پیدا اور اس کے ساتھ زندہ ہیں یعنی در حقیقت سب جانوں کی جان اور سب طاقتوں کی طاقت وہی ہے لیکن اگر یہ خیال کیا جائے کہ وہ قدیم سے الگ کا الگ چلا آتا ہے اور اس کی ربوبیت کا کسی چیز پر احاطہ نہیں اور کوئی چیز اس سے ظہور پذیر نہیں ہوئی تو اس صورت میں علم کائنات تو اسے کیا ہوگا بلکہ محدود چیزوں میں سے وہ بھی ایک چیز ہوگی جس کا کوئی اور محدد تلاش کرنا پڑے گا۔سرمه چشم آریہ ، روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 224 ،225 حاشیہ ) حمد خدا تعالیٰ کے دو نام ہیں؛ ایک حتی دوسرا قیوم حتی کے یہ معنے ہیں کہ خود بخود زندہ اور دوسری چیزوں کو زندگی بخشنے والا اور قیوم کے یہ معنے ہیں کہ اپنی ذات میں آپ قائم اور اپنی پیدا کردہ چیزوں کو اپنے سہارے سے باقی رکھنے والا۔پس خدا تعالیٰ کے نام قیوم سے وہ 310