نُورِ ہدایت — Page 309
کون ہے جو بغیر اس کے حکم کے اُس کے آگے شفاعت کرسکتا ہے؟ وہ جانتا ہے جولوگوں کے آگے ہے اور جو پیچھے ہے۔یعنی اس کا علم حاضر اور غائب پر محیط ہے اور کوئی اس کے علم کا کچھ بھی احاطہ نہیں کر سکتا لیکن جس قدر وہ چاہیے۔اُس کی قدرت اور علم کا تمام زمین و آسمان پر تسلط ہے۔وہ سب کو اٹھائے ہوئے ہے، یہ نہیں کہ کسی چیز نے اُس کو اٹھا رکھا ہے اور وہ آسمان وزمین اور اُن کی تمام چیزوں کے اٹھانے سے تھکتا نہیں اور وہ اس بات سے بزرگ تر ہے کہ ضعف و ناتوانی اور کم قدرتی اُس کی طرف منسوب کی جائے۔( چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 273 274) تمام مخلوقات، اجرام فلکی سے لے کر ارضی تک اپنی بناوٹ ہی میں عبودیت کا رنگ رکھتی ہے۔ہر پتے سے یہ پتہ ملتا ہے ہر شاخ اور آواز سے یہ صدا نکلتی ہے کہ اُلوہیت اپنا کام کر رہی ہے۔اس کے عمیق در عمیق تصرفات جن کو ہم خیال اور قوت سے بیان نہیں کر سکتے بلکہ کامل طور پر سمجھ بھی نہیں سکتے اپنا کام کر رہے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللهُ لا إلهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ یعنی اللہ تعالی ہی ایک ایسی ذات ہے جو جامع صفاتِ کاملہ اور ہر ایک نقص سے منزہ ہے وہی مستحق عبادت ہے۔اُسی کا وجود بدیہی الثبوت ہے۔کیونکہ وہ جی بالذات اور قائم بالذات ہے۔اور بجز اس کے اور کسی چیز میں حتی بالذات اور قائم بالذات ہونے کی صفت نہیں پائی جاتی۔کیا مطلب کہ اللہ تعالیٰ کے بدوں اور کسی میں یہ صفت نظر نہیں آتی کہ بغیر کسی علت موجبہ کے آپ ہی موجود اور قائم ہو۔یا کہ اُس عالم کی، جو کمال حکمت اور ترتیب محکم و موزون سے بنایا گیا ہے، علت موجبہ ہو سکے۔غرض اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے سوا اور کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو ان مخلوقات عالم میں تغیر و تبدل کر سکتا ہو یا ہر ایک شے کی حیات کا موجب اور قیام کا باعث ہو۔اس آیت پر نظر کرنے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وجودی مذہب حق سے دور چلا گیا ہے اور اُس نے صفات الہیہ کے سمجھنے میں ٹھو کر کھائی ہے۔وہ معلوم نہیں کرسکتا کہ اُس نے عبودیت اور الوہیت کے ہی رشتہ پر ٹھو کر کھاتی ہے۔اصل یہ معلوم ہوتی ہے کہ اُن میں 309