نُورِ ہدایت — Page 256
حرج ہے کہ مداہنت کر کے ہم اپنے آپ کو نقصان سے بچالیں۔اور یہ نہیں سمجھتے کہ اگر سب لوگ ہی اس طریق کو اختیار کرلیں تو صداقت کی تائید کون کرے۔اور یہ خیال بھی نہیں کرتے که صداقت کو تو بے شک اللہ تعالی نے فتح دینی ہی ہے لیکن انہیں اپنے انجام کا بھی تو خیال کرنا چاہئے۔اگر صداقت کامیاب ہو گئی مگر وہ صداقت کے منکروں میں شامل ہو گئے تو ان کو اس سے کیا فائدہ۔آیت زیر تفسیر میں اس تیسرے گروہ کے پہلے حصہ کا یعنی جو دل سے قرآن کریم کے منکر تھے لیکن ظاہر میں مسلمانوں میں شامل تھے ذکر کیا گیا ہے۔فرماتا ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں کہ ظاہر میں تو وہ مسلمانوں میں شامل ہیں لیکن اُن کے دل میں اسلام کی صداقتوں پر پورا یقین نہیں۔وہ منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور یوم آخر کو مانتے ہیں لیکن اُن کے دلوں میں اللہ اور یوم آخر پر کوئی ایمان نہیں۔اس آیت میں صرف اللہ اور یوم آخر پر ایمان کا ذکر ہے۔کلام الہی یا انبیاء وغیرہ کا ذکر نہیں۔اس کی یہ وجہ ہے کہ ایمانیات کے سلسلہ کی پہلی کڑی خدا تعالی پر ایمان لانا ہے اور آخری کڑی یوم آخر پر ایمان لانا۔پس اختصار کے لئے صرف پہلی اور آخری کڑی کا ذکر کر دیا گیا اور درمیانی امور کو چھوڑ دیا گیا کیونکہ ابتدا اور انتہا کے ذکر سے درمیانی اُمور خود ہی سمجھ آ جاتے ہیں۔پس گو کفار کا قول اختصار ا یہی نقل کیا ہے کہ ہم اللہ اور یوم آخر پر ایمان لاتے ہیں لیکن مراد یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ سے لے کر یوم آخر تک سب امور ایمانیہ کو مانتے ہیں جیسے کہ ہماری زبان میں بھی کہہ دیتے ہیں کہ الف سے یا تک سب بات سمجھ لی ہے۔اس آیت کو ومن الناس سے شروع کرنے میں یہ حکمت بھی ہے کہ منافقوں کو ان کی انسانیت کی طرف توجہ دلائی جائے۔کیونکہ قرآن کریم میں جہاں جہاں بھی کاش کا لفظ استعمال ہوا ہے بشر کی اچھی قوتوں اور استعدادوں کی طرف اشارہ کرنے کے لئے استعمال ہوا ہے۔ورنہ یا تو قرآن کریم کفار کا لفظ استعمال کر کے یا صرف ضمیر کے استعمال سے یا ملکوں یا 256