نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 215 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 215

ہے جس میں ص کی زیادتی کی جاتی ہے۔پھر اتر آتا ہے اور پھر المر آتا ہے کہ جس میں میم کی زیادتی کی جاتی ہے پھر کھیعص آتا ہے جس میں ص پر چار اور حروف کی زیادتی ہے پھر طلہ لایا جاتا ہے۔اور پھر اس میں کچھ تبدیلی کر کے طلسم کر دیا جاتا ہے۔ایک ہی قسم کے الفاظ کا متواتر لانا اور بعض کو بعض جگہ بدل دینا بعض جگہ اور رکھ دینا بتا تا ہے که خواه یہ حروف کسی کی سمجھ میں آئیں یا نہ آئیں جس نے انہیں رکھا ہے کسی مطلب کے لئے ہی رکھا ہے۔اگر یونہی رکھے جاتے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ کہیں ان کو بدل دیا جاتا، کہیں زائد کر دیا جاتا، کہیں کم کر دیا جاتا۔علاوہ مذکورہ بالا دلائل کے خود مخالفین اسلام کے ہی ایک استدلال سے یہ مستنبط ہوتا ہے کہ مقطعات کچھ معنی رکھتے ہیں۔مخالفین اسلام کہتے ہیں کہ قرآن کریم کی سورتوں کی ترتیب ان کی لمبائی اور چھوٹائی کے سبب سے ہے۔اب اگر یہ صحیح ہے تو کیا یہ عجیب بات نہیں کہ باوجوداس کے کہ سورتیں اپنی لمبائی اور چھوٹائی کے سبب سے آگے پیچھے رکھی گئی ہیں ایک قسم کے حروف مقطعات اکٹھے آتے ہیں۔العہ کی سورتیں اکٹھی آگئی ہیں۔الر کی اکٹھی۔طہ اور اس کے مشترکات کی اکٹھی۔پھر اللہ کی اکٹھی۔ختم کی اکٹھی۔اگر سورتیں ان کے حجم کے مطابق رکھی گئی ہیں تو کیا یہ عجیب بات نہیں معلوم ہوتی کہ حروف مقطعات ایک خاص حجم پر دلالت کرتے ہیں۔اگر صرف یہی تسلیم کیا جائے تب بھی اس کے معنے یہ ہوں گے کہ حروف مقطعات کے کچھ معنی ہیں۔خواہ یہی معنی ہوں کہ وہ سورۃ کی لمبائی اور چھوٹائی پر دلالت کرتے ہیں۔مگر حق یہ ہے کہ ایک قسم کے حروف مقطعات کی سورتوں کا ایک جگہ پر جمع ہونا بتا تا ہے کہ ان کے معنوں میں اشتراک ہے اور یہ حروف سورتوں کے لئے بطور کنجیوں کے ہیں۔حروف مقطعات کی نسبت یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ اس غیر معمولی طریق کو قرآن کریم نے کیوں استعمال کیا؟ کیوں نہ یہی مضمون سیدھی سادھی عبارت میں بیان کر دیا تا کہ اول عربوں پر اور بعد میں دوسرے لوگوں پر اس کا سمجھنا آسان ہوتا تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ غیر معمولی طریق 215