نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 208 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 208

میں جچتا نہیں۔بعض نے ان کو با معانی کلام کا خلاصہ قرار دیا ہے۔مثلاً الف لام میم کے معنے یہ کئے ہیں کہ اللہ ، جبریل ، محمد۔یعنی اللہ تعالیٰ نے جبریل کے ذریعہ سے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) پر یہ کلام نازل کیا ہے۔یہ معنے الف لام میم کے حروف پر تو چسپاں ہو جاتے ہیں۔لیکن تمام حروف مقطعات کی اس طرح تشریح نہیں ہوسکتی۔بعض نے ان حروف کے معنی یہ کئے ہیں کہ ان میں اللہ تعالیٰ کی ان صفات کا ذکر ہے جن کی تشریح بعد کی سورۃ میں کی گئی ہے اور صفات کے پہلے حروف یا بعض اہم حروف کو مضمون کی طرف اشارہ کرنے کے لئے بیان کر دیا گیا۔جیسا کہ میں آگے چلے کر بیان کروں گا یہی معنی سب سے زیادہ درست اور شانِ قرآن اور شہادتِ قرآن کے مطابق ہیں۔بعض نے ان حروف سے ان آیات کے مضامین کے اوقات کی طرف اشارہ مراد لیا ہے۔یعنی حروف مقطعات سے جس قدر عدد نکلتے ہیں اس قدر عرصہ تک کے متعلق ان سورتوں میں واقعات بیان کئے گئے ہیں۔یا یہ کہ اس زمانہ کے حالات کی طرف ان سورتوں میں خاص طور پر اشارہ کیا گیا ہے۔یہ معنی بھی جیسا کہ بتایا جائے گا درست معلوم ہوتے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاموشی کم سے کم ان کی تصدیق کرتی ہے۔اس امر کا ثبوت کہ ان حروف کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی وحی کا حصہ قرار دیا ہے۔اس حدیث سے ملتا ہے جو بخاری نے اپنی کتاب تاریخ میں نیز ترمذی اور حاکم نے عبد اللہ بن مسعود سے نقل کی ہے۔وہ فرماتے ہیں اس کا ترجمہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی کتاب یعنی قرآن کریم کا ایک حرف بھی پڑھے وہ جنت کا مستحق ہوگا اور اس کی یہ نیکی دس گنے ثواب کا مستحق اسے بنادے گی۔اور میں یہ نہیں کہتا کہ الٹ ایک حرف ہے۔بلکہ الٹر کا الف ایک مستقل حرف ہے اور لام ایک مستقل حرف ہے اور میم ایک مستقل حرف ہے۔208