نُورِ ہدایت — Page 153
رحمانیت سے اپنا تعلق جوڑتا ہے جس طرح کتا اپنے مالک کے قدموں میں پیار سے لوٹتا پوٹتا ہے اس طرح جب حمد کا یہ تصور دل میں آتا ہے تو کروٹیں لینے لگتا ہے۔تبدیل ہونے والی یا لوٹنے پوٹنے والی چیز کو قلب کہتے ہیں۔پس حقیقی قلب اس وقت بنتا ہے جب اللہ کے قدموں میں یہ لوٹتا ہے اس کی حمد کی وجہ سے۔اس کی حمد سے غیر معمولی طور پر مغلوب ہو کر یہ خدا کے قدموں میں کروٹیں بدلتا ہے، پیار کے اظہار کرتا ہے۔کبھی اس کی ربوبیت پر واری جاتا ہے۔کبھی اس کی رحمانیت پر اور کبھی اس کی رحیمیت پر۔اور اس طرح پھر انسان آخر ما لک یوم الدین تک پہنچ جاتا ہے۔اس کا تیسرا درجہ اعمال کا درجہ ہے۔حمد کی یہ دونوں شکلیں تب سچی قرار دی جائیں گی اگران کا اعمال پر بھی اثر پڑے اور اگر اعمال پر اثر نہیں پڑتا تو محض جذباتی تصویریں ہیں۔ان کی کوئی بھی حقیقت نہیں۔پھر اعمال کی وہ راہ ہے جس کے لیے انسان کے سامنے بہت ہی مشکلات پیش آتی ہیں۔وہ کہنے کو تو یہ کہہ دیتا ہے اللہ رب ہے لیکن اس ربوبیت کا مظہر بننے کی راہ میں جب وقتیں پیش آتی ہیں تو اس وقت سمجھ آتی ہے کہ منہ سے تعریف کرنا اور چیز ہے۔دل سے محسوس کرنا اور چیز ہے۔اور اعمال میں جاری کرنا بالکل اور چیز ہے۔وہ کہ تو دیتا ہے اللہ ان ہے مگر خود بندوں کے لیے رحمان بننا ایک بہت بڑا کام ہے۔اتنا عظیم الشان کام ہے کہ قدم قدم پر انسان کے سامنے یہ امتحان آتا ہے اور اس میں فیل ہوتا چلا جاتا ہے۔منہ سے رحمان کی تعریف کرتا ہے، دل سے محسوس کرتا ہے کہ ہاں وہ بہت ہی پیاری چیز ہے مگر جب ایک رستہ اختیار کرنے کا وقت آتا ہے تو رحمانیت کا رستہ چھوڑ کر غضب کا رستہ اختیار کر لیتا ہے۔ایسے شخص کے متعلق ہم یہ کس طرح توقع کر سکتے ہیں کہ وہ مالک یوم الدین تک رحمانیت کی راہ سے پہنچے گا۔اس نے تو خود اپنی آزمائشوں کے وقت میں رحمانیت کی راہ ترک کی اور مغضوبیت کی راہ اختیار کرلی۔یہی رحیمیت کا حال ہے۔رحیمیت کی راہ اختیار کرنے کی بجائے انسان ہمیشہ تو نہیں مگر 153