نُورِ ہدایت — Page 144
سے اسلام پر حملہ کر رہا ہوگا۔پس ایک طرف تو ایک مثیل مسیح کا انکار کر کے انہیں یہود سے مشابہت ہو جائے گی اور وہ خدا تعالیٰ کی نصرت سے محروم ہو جائیں گے دوسری طرف مسیحیت ان پر حملے کر کے ان کے ہزاروں جگر کے ٹکڑے ان سے چھین کر لے جائے گی۔کیا یہ آیت ایک زبر دست پیشگوئی نہیں ہے؟ کیا اس سے فائدہ اٹھا کر وہ ان دو آگوں سے نجات حاصل نہیں کر سکتے؟ اس سورۃ پر نظر غائر ڈالنے سے ایک اور لطیف خوبی کا پتہ چلتا ہے جو خدا تعالیٰ نے اس سورۃ کی آیات میں رکھی ہے۔اور وہ یہ ہے کہ صفات الہیہ اور دعاؤں کا بیان بالکل ایک دوسرے کے مقابل میں ہوا ہے چنانچہ الحمد لله ( یعنی سب تعریف اللہ کے لئے ہے ) کے مقابلہ میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ ) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں) ہے۔جس سے بتایا ہے کہ جونہی انسان معلوم کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سب خوبیوں کا جامع ہے تو وہ بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔پھر ربّ الْعَلَمِينَ کے مقابلہ میں اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کو رکھا ہے کیونکہ جب انسان کو یقین ہو جائے کہ ہمارا خدا ہر ایک ذرہ ذرہ کا خالق اور محسن ہے تو وہ کہ اُٹھتا ہے کہ ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔اسی طرح آل محمن کے مقابلہ میں جس کے معنی بغیر محنت اور مبادلہ کے دینے والا اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيم کو رکھا ہے۔کیونکہ جب انسان دیکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کے کسی عمل کے بغیر اس کی تمام ضروریات کو پورا کیا ہے تو وہ بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ میری سب سے بڑی ضرورت تو حضور تک پہنچنا ہے۔اس کے پورا کرنے کے سامان بھی پیدا کیجئے۔پھر الرَّحِیم ( یعنی محنت کا عمدہ بدلہ دینے والا) کے مقابلہ میں صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ رکھا۔یعنی ایسے لوگوں کا رستہ دکھائیے جن پر آپ نے انعام کئے ہیں۔سیدھے راستہ پر چلاتے چلاتے مجھے ان انعامات کا وارث کر دیجئے جو پہلے لوگوں کو ملے ہیں۔کیونکہ رحیمیت چاہتی ہے کہ کسی کام کو ضائع نہ ہونے دیا جائے۔پھر ملِكِ يَوْمِ الدِّین کے مقابلہ میں غَيْرِ الْمَغْضُوبِ 144