نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 117 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 117

جب کسی کے گھر میں داخل ہوتی ہے تو کہتی ہے کہ حکومت کے نام پر ہم داخل ہور ہے یا فلاں مال پر قبضہ کرتے ہیں پس اس جگہ نام کا لفظ بڑھا کر اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جوشخص بسم اللہ پڑھ کر قرآن کریم پڑھتا ہے وہ گویا قرآن کریم کی خدمت پر مامور فرشتوں سے کہتا ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے خود اس سورۃ کے پڑھنے کا حکم دیا ہے۔پس میرے لئے اس کے مطالب کے دروازے کھول دو اور وہ اختصاراً اس مضمون کو یوں ادا کرتا ہے کہ اللہ رحمٰن رحیم کے نام پر اس خزانہ کے کھولے جانے کی میں درخواست کرتا ہوں۔ظاہر ہے کہ جو اس طرح خدا تعالیٰ کے اذن سے قرآن کریم کی طرف متوجہ ہو گا۔اس کے علوم سے حصہ پائے گا۔لیکن جو اس کے اذن اور اس کے نام سے توجہ نہیں کرے گا بلکہ شرارت اور بغض سے توجہ کرے گا اس کے لئے اس کے خزانے نہیں کھولے جائیں گے۔پانچویں اور چھٹی حکمت اس کی ان دو پیشگوئیوں کی طرف اشارہ کرنا ہے جواستثناء آیت 18 اور آیت 20 میں مذکور ہیں اور جن کا ذکر میں اس سوال کی بحث میں کر آیا ہوں کہ ہر سورۃ کے شروع میں بسم اللہ کیوں دہرائی گئی ہے اور وہ حکمت یہ ہے کہ ان پیشگوئیوں میں لکھا تھا کہ وہ خدا کا نام لے کر کلام الہی سنائے گا۔پس ان پیشگوئیوں کی طرف توجہ دلانے کے لئے ضروری تھا کہ اسم کا لفظ اس جگہ بڑھایا جاتا۔الحَمدُ لله۔یہاں یہ نہیں فرمایا کہ میں اللہ کی حمد کرتا ہوں نہ یہ کہ ہم کرتے ہیں۔بلکہ الحمد اللہ فرمایا ہے۔اس طرح کئی معانی پیدا کر دئیے گئے ہیں۔اوّل مصدر کے استعمال سے معروف اور مجہول دونوں معنی پیدا کر دئیے گئے ہیں۔یعنی یہ بھی کہ سب حمد جو مخلوق کر سکتی ہے یا کرتی ہے خدا تعالیٰ کو ہی پہنچتی ہے اور وہ سب قسم کی تعریفوں کا مستحق ہے۔کوئی اچھی بات نہیں جو اس میں نہ پائی جاتی ہو اور کوئی بری بات نہیں جس سے وہ پاک نہ ہو اور یہ بھی کہ اللہ تعالی ہی مخلوق کی صحیح حمد کر سکتا ہے کیونکہ وہ عالم الغیب ہے۔بندے بندے کی تعریف کرتے ہیں لیکن بسا اوقات وہ غلط ہوتی ہے بعض دفعہ جس قدر کسی میں خوبی ہوتی ہے۔اس کا اظہار نہیں 117