نُورِ ہدایت — Page 116
سکتے۔پس ہر سورۃ سے پہلے اس آیت کو رکھ کر قرآنی مطالب کے اظہار کا ایک زبر دست ذریعہ مہیا کیا گیا ہے۔پانچویں وجہ اس آیت کو ہر سورۃ سے پہلے رکھنے کی یہ ہے کہ یہ ہر سورۃ کے لیے کنجی کا کام دیتی ہے۔تمام دینی اور روحانی مسائل رحمن اور رحیم دوصفات کے گرد چکر کھاتے ہیں۔چونکہ غلطی دو طرح دور ہوتی ہے کبھی تفصیل سے اور کبھی اجمال سے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہر سورۃ کے شروع میں بسم اللہ رکھ دی تاکہ سورۃ کے مطالب میں جو اشتباہ پیدا ہوا سے پڑھنے والا بسم اللہ سے دُور کر لے۔یعنی جو مطلب وہ سمجھتا ہے اگر رحمن اور رحیم کے مطابق ہو تو اسے درست سمجھے اور اگر اس کے خلاف ہو تو اسے غلط قرار دے۔اس طرح بسم اللہ کی شارح سورۃ ہو جاتی ہے اور سورۃ کی مفتر بسم اللہ اور دونوں کی مدد سے صحیح مفہوم پڑھنے والے کے ذہن نشین ہو جاتا ہے۔ایک اور سوال اس جگہ پیدا ہوتا ہے کہ کہنا تو یہ چاہئے تھا کہ اللہ کی مدد مانگتے ہوئے قرآن کریم پڑھتا ہوں اور کہا یہ گیا ہے کہ اللہ کے نام کی مدد سے پڑھتا ہوں۔نام کا لفظ کیوں زیادہ کیا گیا ہے؟ اس کے مفصلہ ذیل جواب ہیں۔(1) باء استعانت کے علاوہ قسم کے لئے بھی آتی ہے اگر خالی باللہ ہوتا تو شبہ ہوسکتا تھا کہ شائد قسم کھائی گئی ہے پس اس شبہ کے ازالہ کے لئے اسم کا لفظ بڑھایا گیا (2) اللہ تعالیٰ کی ذات مخفی ہے اور صفات ہی سے وہ پہچانا جاتا ہے۔اس لئے اسم کا لفظ بڑھایا گیا۔الرحمن الرحیم کے ذکر سے مراد بھی یہی ہے کہ میں خدا تعالیٰ سے اس کی رحمانیت اور رحیمیت کا واسطہ دے کر مدد طلب کرتا ہوں (3) یہ توجہ دلائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں بھی برکت ہے اور ان کی طرف انسان کو توجہ رکھنی چاہئے (4) قرآن کریم ایک بند خزانہ ہے اور جب کوئی کسی ایسے مکان میں جس میں داخلہ بلا اجازت ممنوع ہو داخل ہوتا ہے تو اس کے محافظوں کو یا مکین کو مالک کا حکم یا اجازت دکھاتا ہے یا اس کا ذکر کرتا ہے۔چنانچہ پولیس 116