نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1191 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1191

ہی اس کا کوئی وارث ہوگا۔وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا اَحَدُ۔کہا کہ اس کے مشابہ کوئی اور نہیں۔اور نہ ہی کوئی اس جیسا ، اور نہ ہی اس کی مانند کوئی اور چیز ہے۔( سنن الترمذی ابواب تفسیر القرآن عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔باب ومن سورۃ الاخلاص ) اللہ وسلم۔پھر اس بارے میں ایک جگہ حضرت ابوہریرۃ سے یوں روایت ملتی ہے۔آپ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں۔یہانتک کہ یہ کہتے ہیں کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا۔یعنی کسی بھی چیز کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تو اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ؟ ( یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی سوال ہوتے تھے۔آج بھی یہ سوال بڑے اٹھائے جاتے ہیں۔) آپ نے فرمایا پس جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو تو قُلْ هُوَ الله احد کہو یہانتک کہ تم یہ سورت ختم کرلو۔( یعنی سورۃ اخلاص پوری پڑھو۔اس کے معنی پر غور کرو تو تمہیں پتا لگ جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کو پیدا کرنے والی کوئی چیز نہیں۔وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔) فرمایا کہ پھر اس کو چاہئے کہ وہ شیطان سے پناہ طلب کرے تو وہ اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔الابانة الكبرى لابن بطه باب ترك السؤال عما لا يُغْنِى وَالْبحث والتنقير) حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں۔میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدُ اللهُ الصَّمَدُ پڑھتے ہوئے سنا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہو گئی۔میں نے پوچھا کیا چیز واجب ہو گئی؟ آپ نے فرمایا جس اخلاص سے یہ پڑھ رہا ہے اس پر جنت واجب ہوگئی۔( سنن الترمذی۔ابواب تفسیر القرآن عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔باب ومين سورۃ الاخلاص) پھر حضرت سہیل بن سعد سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اپنی غربت کی شکایت کی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تو اپنے گھر میں داخل ہو تو اگر کوئی گھر میں ہو تو السّلامُ عَلَيْكُم کہا کرو۔اور اگر کوئی نہ ہو تو پھر بھی السلام 1191