نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1188 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1188

کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ قرآن کے تیسرے حصہ کے برابر ہے۔( صحیح بخاری۔کتاب فضائل القرآن - باب قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ ) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس ضمن میں ایک جگہ تفصیل یوں بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز ہے کہ ایک رات میں ایک تہائی قرآن مجید پڑھے۔یہ بات صحابہ پر بڑی گراں گزری۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے کہ ایک تہائی قرآن کریم رات میں پڑھ لے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ الواحد الصمد۔یعنی سورۃ اخلاص ایک تہائی قرآن ہے۔( صحیح بخاری۔کتاب فضائل القرآن - باب قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ ) سورۃ اخلاص کے قرآن کریم کے تیسرے حصہ کے حوالے سے صحیح مسلم نے ایک روایت اس طرح لکھی ہے۔حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جمع ہو جاؤ میں تمہیں قرآن کا تیسرا حصہ پڑھ کر سناؤں گا۔ساروں کو اکٹھا کیا، جمع کیا کہ مسجد میں آ جاؤ۔پس لوگ اکٹھے ہو گئے۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور قُلْ هُوَ اللهُ اَحَد کی تلاوت فرمائی۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے گئے۔صحابہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے کسی نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ آسمان سے کوئی خبر یعنی وحی آئی ہے جس کی وجہ سے آپ اپنے گھر میں داخل ہوئے ہیں اور اندر چلے گئے ہیں۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا میں نے تم سے کہا تھا کہ میں تم پر قرآن کا تیسرا حصہ پڑھوں گا۔غور سے سنو یہ سورۃ اخلاص قرآن کے تیسرے حصہ کے برابر ہے۔( صحیح مسلم - کتاب صلوة المسافرين و قصرها - باب فضل قراءة قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو تیسرا حصہ کیوں کہا؟ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو تو حید کو ثابت کرنے اور اس کے قیام کے لئے نازل فرمایا۔پس اس سورۃ میں بڑے واضح الفاظ میں اور جامع انداز میں توحید کو بیان کیا گیا ہے۔پس اس کے الفاظ پر غور کرنے اور عمل کرنے سے انسان حقیقی توحید پر عمل کر سکتا ہے اور پھر قرآن کریم کو خدائے واحد کا کلام سمجھ کر 1188