نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 110 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 110

سورۃ فاتحہ کے سوا اور کسی چیز سے ادا نہیں ہوسکتا۔بلکہ اس سورۃ کے بارہ میں تو ہم کہ سکتے ہیں کہ سمندر کوزہ میں بند کر دیا گیا ہے۔غرض اسماء کے گنانے سے میرا منشاء پڑھنے والے کے ذہن کو ان وسیع مطالب کی طرف توجہ دلانا تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف ناموں کے ذریعہ سے اس سورۃ کے بیان فرمائے ہیں ورنہ حقیقت سے خالی نام کسی سورۃ کے 9 چھوڑ 100 بھی ہوں تو ان سے کوئی مقصد پورا نہیں ہوتا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا بے فائدہ فعل ہر گز نہیں کر سکتے تھے۔پس سوچنے والوں کے لئے ان ناموں میں ایک اعلی روشنی اور کامل ہدایت ہے۔حمدؐ اس سورۃ کے بہت سے فضائل حدیثوں میں بیان ہیں۔نسائی نے ابی بن کعب سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے نہ توراۃ میں نہ انجیل میں کوئی ایسی سورۃ اُتاری ہے جیسی کہ اُم القرآن ( یعنی سورۃ فاتحہ ) ہے اور اس کا ایک نام السبع المثانی بھی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کے بارہ میں مجھے فرمایا ہے کہ وہ میرے اور میرے بندے کے درمیان بحضہ مساوی بانٹ دی گئی ہے اور اس کے ذریعہ سے میرے بندے جودُعا مجھ سے کریں گے وہ ضرور قبول کی جائے گی۔یہ فضیلت نہایت اہم ہے کیونکہ اس میں ایک عملی گر بتایا گیا ہے جو انسان کے لئے دین ودنیا میں مفید ہے یعنی جو دُعا اس کے ذریعہ سے کی جائے وہ قبول کی جاتی ہے۔ظاہر ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ سورۃ فاتحہ پڑھ کر جو دعا کی جائے وہ ضرور قبول ہو جاتی ہے۔بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو ذریعہ دعا کا اس میں بتایا گیا ہے اس کا اختیار کرنا ضرور دعا کو قبول کروادیتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ وہ ذریعہ کیا ہے؟ جیسا کہ اس سورۃ کی عبارت سے ظاہر ہے وہ ذریعہ اول بسم الله دوم الحمد للہ سوم الرحمن - چهارم الرحيم اور پنجم مُلكِ يَوْمِ الدِّین اور ششم اِيَّاكَ نَعْبُدُ اور ہفتم اِيَّاكَ نَسْتَعِین ہے گویا جس طرح سات آیتوں کی یہ سورۃ ہے اسی طرح سات اصول دُعا کی قبولیت کے لیے اس میں بیان کئے گئے ہیں۔110