نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1158 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1158

کہو کہ تم یوں دُعا مانگا کرو کہ ہم وسوسہ انداز شیطان کے وسوسوں سے جولوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے اور اُن کو دین سے برگشتہ کرنا چاہتا ہے کبھی بطور خود اور کبھی کسی انسان میں ہوکر، خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔وہ خدا جو انسانوں کا پرورندہ ہے۔انسانوں کا بادشاہ ہے۔انسانوں کا خدا ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک زمانہ آنے والا ہے جو اس میں نہ ہمدردی انسانی رہے گی جو پرورش کی جڑ ہے۔اور نہ سچا انصاف رہے گا جو بادشاہت کی شرط ہے۔تب اس زمانہ میں خدا ہی خدا ہو گا جو مصیبت زدوں کا مرجع ہوگا۔یہ تمام کلمات آخری زمانہ کی طرف اشارات ہیں جبکہ امان اور امانت دنیا پر سے اٹھ جائے گی۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 222،221) واضح ہو کہ خناس شیطان کے ناموں میں سے ایک نام ہے یعنی جب شیطان سانپ کی سیرت پر قدم مارتا ہے اور کھلے کھلے اکراہ اور جبر سے کام نہیں لیتا اور سراسر مکر اور فریب اور وسوسہ اندازی سے کام لیتا ہے اور اپنی نیش زنی کے لئے نہایت پوشیدہ راہ اختیار کرتا ہے تب اُس کو خناس کہتے ہیں۔عبرانی میں اس کا نام نحاش ہے۔چنانچہ توریت کے ابتدا میں لکھا ہے کہ نحاش نے حوا کو بہکایا اور حوا نے اس کے بہکانے سے وہ پھل کھایا جس کا کھانا منع کیا گیا تھا۔تب آدم نے بھی کھایا۔سو اس سورۃ الناس سے واضح ہوتا ہے کہ یہی نحاش آخری زمانہ میں پھر ظاہر ہوگا اسی معاش کا دوسرا نام دجال ہے۔یہی تھا جو آج سے چھ ہزار برس پہلے حضرت آدم کے ٹھو کر کھانے کا موجب ہوا تھا اور اس وقت یہ اپنے اس فریب میں کامیاب ہو گیا تھا اور آدم مغلوب ہو گیا تھا لیکن خدا نے چاہا کہ اسی طرح چھٹے دن کے آخری حصے میں آدم کو پھر پیدا کر کے یعنی آخر ہزار ششم میں جیسا کہ پہلے وہ چھٹے دن میں پیدا ہوا تھا معاش کے مقابل پر اس کو کھڑا کرے اور اب کی دفعہ معاش مغلوب ہو اور آدم غالب۔سو خدا نے آدم کی مانند اس عاجز کو پیدا کیا اور اس عاجز کا نام آدم رکھا۔جیسا کہ براہین احمدیہ میں یہ الہام ہے ارَدْتُ أَنْ اسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ آدَمَ - اور نیز یہ الہام خَلَقَ آدَمَ فَاكْرَمَهُ اور نیز یہ الہام کہ يَا آدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ۔اور آدم کی نسبت تو ریت کے پہلے باب میں یہ آیت ہے 1158