نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1131 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1131

میں نہ آئے اس دنیا میں خطرات سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔پس امن کا صحیح راستہ یہی ہے کہ انسان ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر جھکا ر ہے اور اس کی حفاظت طلب کرے۔ماخوذ از تفسیر کبیر - زیر تفسیر سورة الفلق) حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ نے سورۃ الفلق کی تلاوت کے بعد فرمایا: قرآن کا یہ بہت ہی پیارا اسلوب ہے کہ دعاؤں کے رنگ میں انسان کی تربیت فرماتا ہے۔دعاؤں سے جو فائدہ انسان کو پہنچتا ہے وہ اپنی جگہ ہے۔اس کے علاوہ ان دعاؤں میں بڑے گہرے مضامین ایسے ہیں جو انسان کی تربیت سے تعلق رکھتے ہیں۔اس کے ذہن اور اس کے قلب، اس کی فکر اور اس کے جذبات کو توازن بخشتے ہیں۔اور وہ غلطیاں جن میں انسان بسا اوقات مختلف جذبات اور مختلف مواقع پر مبتلا ہو جایا کرتا ہے ان غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور ان ٹھوکروں سے بچاتے ہیں۔سورہ فلق کی یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں ان میں بھی ایک ویسی ہی بہت پیاری دعا سکھائی گئی اور انسان کو ایک ایسے مضمون سے آگاہ کیا گیا کہ اگر وہ اس سے باخبر رہے تو ترقیات اور فضلوں اور رحمتوں کے وقت بے خوف نہ ہو اور دنیا کی نظر میں جتنے خوف ہیں ان خوفوں کے وقت مایوس نہ ہو۔گویا ہر حالت میں انسان کو اعتدال کا سبق سکھایا گیا ہے۔قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ غَيْرِ مَا خَلَق۔فلق کہتے ہیں بیج کے پھوٹنے کو اور گٹھلیوں کے پھٹ کر ایک نئی کونپل پیدا کرنے کو، اور رات کے صبح میں تبدیل ہونے کو۔اور اس کے علاوہ اس کے برعکس معانی بھی فلق کے ساتھ وابستہ ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے : إِنَّ اللهَ فَالِقُ الْحَبِ وَالنَّوَى يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَي ذَلِكُمُ اللهُ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ (الانعام 96) دیکھو! إِنَّ اللهَ فَالِقُ الْحَب وَالتَّوَى اللہ بیجوں اور گٹھلیوں کو پھاڑ کرنئی زندگی پیدا کرنے والا 1131