نُورِ ہدایت — Page 1105
التقلب في العقد : گر ہوں میں پھونکنے والیاں۔التَّقْفتِ التَّفْعُ وَمَعَ رِيقٍ نَفَفْ کے معنے ہیں پھونکنا جن میں تھوک بھی ہو۔گرہ میں پھونکنا جیسا کہ جادو گرلوگ تا گوں میں گر میں ڈال کر پھونکتے ہیں۔اور لوگوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ اس کا اثر ہوتا ہے۔گرہ میں پھونکنا اور گرہ دینا یہ ایک محاورہ ہے جس کے معنی ہیں کسی کام میں رکاوٹ ڈالنے کے واسطے کوشش کرنا جیسا کہ وہ لوگ جو جادوگری کا پیشہ رکھتے ہیں اپنی جھوٹی جادوگری میں کامیابی حاصل کرنے کے واسطے خفیہ تدابیر کرتے ہیں۔ظاہر تو کرتے ہیں کہ فلاں آدمی کو ہم نے جادو کے ذریعہ سے بیمار کر دیا ہے اور دراصل کسی خفیہ ذریعہ سے اس قسم کی دوائیاں اس شخص کو کھلا دیتے ہیں جن سے وہ بیمار ہو جائے۔پس ایسے خفیہ شریرلوگوں کی شرارت سے بچا رہنے کے واسطے اللہ تعالیٰ کے حضور میں ہمیشہ دعا کرتے رہنا چاہئے۔حاسد وہ ہے جو خواہش کرے کہ دوسرے کے پاس جو عمدہ شے ہے وہ اس کو مل جاوے۔بسا اوقات اس حسد میں اس شخص کو نقصان پہنچانے کی بھی خواہش اور کوشش کرتا ہے جس کو اس نعمت کا مالک دیکھتا ہے۔لفظ حاسد کو اس جگہ نکرہ رکھا ہے۔معرفہ نہیں رکھا۔اس میں یہ حکمت ہے کہ حسد ہمیشہ بُرا نہیں ہوتا بلکہ اگر نیکیوں کے حصول کے واسطے حسد کیا جائے تو وہ حسد محمود ہے۔ماخوذ از حقائق الفرقان۔زیر تفسیر سورۃ الفلق ) حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : عملا مسلم ترمذی اور نسائی میں روایت آتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب سورۃ الفلق اور سورۃ الناس نازل ہوئیں تو حضور نے فرمایا کہ آج رات مجھ پر ایسی بے مثل آیات اُتاری گئی ہیں کہ ان جیسی پہلے نازل نہیں ہوئیں۔اور پھر اس کے بعد سورۃ الفلق اور 1105