نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1104 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1104

غرض یہ سورۃ مشتمل ہے ایک جامع دعا پر۔رسول اکرم نے اس سورۃ کے نزول کے بعد بہت سے تعوذ کی دعائیں ترک کر دی تھیں اور اسی کا ورد کیا کرتے تھے۔حتی کہ بیماری کی حالت میں بھی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس سورۃ کو آپ کے دستِ مبارک پر پڑھ کر آپ کے منہ اور بدن پر ملتی تھیں۔مگر افسوس کہ مسلمانوں نے عام طور سے اب ان عجیب پُر تا ثیر اؤ راد کو قریبا ترک کر دیا ہے۔بعض کا قول ہے کہ شر ما خلق سے مراد شیطان ہے کیونکہ اس سے بڑھ کر کوئی شے انسان کے واسطے موجب شر اور دُکھ اور تکلیف نہیں۔ایک قول یہ ہے کہ شر ما خلق سے مراد جہنم ہے گویا کہ انسان خدا تعالیٰ کے حضور جہنم سے پناہ چاہتا ہے۔بہر حال اس میں تمام موذی اور دُکھ دینے والے اور خدا سے دور رکھنے والی اشیاء سے خدا کے حضور پناہ مانگی گئی ہے۔خواہ وہ شیطان ہو یا جن یا موذی حیوان مثل بچھو، سانپ ، شیر وغیرہ۔ناسق :اندھیرا کرنے والا۔ہر ایک چیز جو تاریکی اور ظلمت پیدا کرے۔فاسق رات کو کہتے ہیں اور شمسق تاریکی کو کہتے ہیں کیونکہ رات تاریکی پیدا کرتی ہے۔اس واسطے وہ فاسق ہے۔اور غسق برد کو بھی کہتے ہیں۔کیونکہ رات بہ نسبت دن کے ٹھنڈی ہوتی ہے۔فاسق ثریا کو بھی کہتے ہیں۔کیونکہ اس کا گرنا عموما و با اور بیماریوں کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔اور غاسق سورج کو بھی کہتے ہیں جبکہ غروب ہو جاوے اور چاند کو بھی کہتے ہیں جبکہ اس کو گہن لگے۔فاسق سانپ کو بھی کہتے ہیں جبکہ وہ کاٹ کھائے اور ہر ایک نا گہاں آنے والی چیز جو ضرر پہنچائے۔یا بھیک مانگنے والا جبکہ وہ تنگ کرے تو اس کو بھی فاسق کہتے ہیں۔غرض ہر ایک چیز جو انسان کو ظلمت روحانی یا جسمانی میں ڈالے اس کو عماسق کہتے ہیں۔جب رات بہت تاریک ہو تو عرب کے محاورہ میں کہتے ہیں غَسَقَ اللَّيْلُ۔اور جب آنکھیں آنسوؤں سے بھر جائیں تو کہتے ہیں غَسَقَتِ الْعَيْنُ اور جب زخم پیپ سے بھر جائے تو کہتے ہیں غَسَقَتِ الْجَرَاحَةُ وقب : کے معنے ہیں چھپ گیا۔وقت کے اصلی معنی ہیں کسی شے میں داخل ہونا ایسا کہ وہ نظر سے غائب ہو جاوے۔1104