نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1081 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1081

ہوتی ہیں وہ اس لحاظ سے خاص اہمیت رکھتی ہیں کہ جن کے عذاب کی ان پیشگوئیوں میں خبر ہو وہ اس عذاب کو ٹالنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔اور چونکہ بالعموم غیر معمولی طور پر مخالف حالات میں کی جاتی ہیں۔اس لئے دنیوی سامانوں کے لحاظ سے اُن کا پورا ہونا بظاہر ناممکن یا غیر اغلب نظر آتا ہے۔اور اسی وقت اُن کے پورا ہونے کی کوئی صورت پیدا ہو سکتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیبی امداد کا انتظام کیا جائے۔پس جس سورۃ میں اس قسم کی پیشگوئیاں ہوں جن کے باطل کرنے کے متعلق زبردست قوموں نے زور لگانا ہو اُن کے بارہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن ملائکہ کو جو دنیا کے مختلف کاموں پر بطور مڈ بر مقرر ہیں ، ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ایسے سامان پیدا کریں کہ وہ پیشگوئیاں بغیر روک کے پوری ہوجائیں۔گوسورۃ الاخلاص میں کوئی پیشگوئی نہیں۔لیکن چونکہ اس میں توحید باری کا مضمون ہے اور توحید کے خلاف آخری زمانہ میں دو خطرناک فتنے اٹھنے والے تھے اور وہ ایسے فتنے تھے کہ اگر آسمانی فرشتوں کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ ان فتنوں کے مٹانے کا انتظام نہ فرماتا تو اسلامی طاقتیں اُن کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھیں اور ان فتنوں کا مقابلہ مشکل تھا۔پس اللہ تعالیٰ نے توحید کی حفاظت کے لئے ستر ہزار فرشتوں کو لگا دیا تا کہ جہاں دجالی فتنہ اور یا جوج و ماجوج کا فتنہ توحید کے خلاف نبردآزما ہو اور پورے سازوسامان کے ساتھ اس پر حملہ آور ہو۔وہاں اُن کے مٹانے کے لئے فرشتے آسمان سے اتریں اور مخالف حالات میں توحید کو دنیا پر قائم کر دیں۔اور شرک اور دہریت کا قلع قمع ہو جائے اور جس طرح سے خدا تعالیٰ کی بادشاہت آسمان پر ہے زمین پر بھی قائم ہو جائے۔م اس سورۃ کے فضائل کے متعلق جو روایات بیان ہوئی ہیں اُن میں سے ایک روایت حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری مسجد قبا میں نماز پڑھایا کرتے تھے۔جب بھی وہ کوئی سورۃ نماز میں پڑھتے تو اس سے پہلے سورۃ الاخلاص پڑھ لیتے اور اس کے پڑھنے کے بعد پھر کوئی اور سورۃ پڑھتے۔مقتدیوں نے کہا کہ جب ایک رکعت میں ایک سورۃ پڑھنی کافی 1081