نُورِ ہدایت — Page 1079
عقیدہ اس دنیا کی آبادی کی بنیاد ہے۔13 ـ سورۃ المانعه - کیونکہ یہ عذاب قبر سے بچاتی ہے۔حضرت ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ جب رسول کریم صلیم کو معراج ہوا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو کہا أعطيتك سُوْرَةُ الْإِخْلَاصِ وَهِيَ مِنْ ذَخَائِرِ كُنُوزِ عَرْشِي وَهِيَ الْمَانِعَةُ تَمْنَعُ عَذَابَ الْقَبْرِ وَنَفَحَاتِ النيرانِ۔کہ میں نے تمہیں سورۃ الاخلاص دی ہے اور یہ میرے عرش کے خزانوں کے ذخائر میں سے ایک ہے اور یہ عذاب قبر اور آگ کے شعلوں سے بچانے والی ہے کیونکہ جو سچی توحید پر قائم ہو جائے اس کو آگ چھو نہیں سکتی۔14 - سورة المحضر۔کیونکہ جب یہ پڑھی جائے تو فرشتے اس کو سننے کے لئے حاضر ہوتے ہیں۔15- سورة البراءة۔یعنی آگ سے یا شرک سے محفوظ رکھنے والی۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم ملایم نے ایک شخص کو یہ سورۃ پڑھتے سُنا۔تو آپ نے فرمایا آما هذَا فَقَد برء من الشرك۔کہ یہ شخص تو شرک سے پاک ہو گیا۔پھر آپ نے فرمایا جس شخص نے سومرتبہ اس سورۃ کونماز میں یا اس کے علاوہ پڑھا تو وہ آگ سے محفوظ ہو گیا۔16۔سورۃ المذگرہ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی توحید کو یاد دلاتی ہے۔17 سورة النور - کیونکہ رسول کریم علام فرماتے ہیں۔اِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ نُورًا وَنُوْرُ الْقُرآنِ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ۔کہ ہر چیز کا ایک نور ہوتا ہے اور قرآن کا نور قُلْ هُوَاللهُ أَحَدٌ ہے۔18 - سورۃ الامان - کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ توحید کو ماننے والا قلعہ میں داخل ہو جاتا ہے اور اس سورۃ میں توحید کا ذکر ہے۔پس یہ عذاب سے امن میں رکھنے والی ہے۔19 - سورة المنفّرة یعنی شیطان کو بھگانے والی۔( تفسیر رازی) رسول کریم علی العلیم نے اس سورۃ کو ٹکٹ قرآن قرار دیا ہے۔چنانچہ آپ فرماتے 1079