نُورِ ہدایت — Page 100
جومسلمانوں کو سکھائی گئی ہے۔یہ نہایت ہی لطیف نکتہ معرفت ہے اور دل کو موہ لینے والی بات۔یہ وجہ ہے کہ قرآن شریف اسی آیت سے شروع ہوا اور رسول کریم علی کے تمام خطبات کا ابتدا بھی اس سے ہوا ہے۔إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ( البدر 10 مارچ 1908 ، نیز دیکھیں رسالہ تعلیم الاسلام جلد اول) بعض لوگ اس مقام پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اوّل مقدم ہونا چاہئے تھا اور إِيَّاكَ نَعْبُدُ اس کے بعد کیونکہ عبادت کے لئے استعانت اللہ تعالیٰ سے اوّل طلب کرنی چاہئے۔اس کا جواب یہ ہے کہ شرعی امور میں خدا تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ انسان اول خدا تعالیٰ کے عطا کردہ انعامات سے کام لے کر اس کا شکر یہ ادا کرے تو پھر اللہ تعالیٰ اور انعامات کرتا ہے۔چنانچہ یہ امرنبی کریم علیم کی اس حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے جس میں یہ بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر میرا بندہ میری طرف ایک بالشت بھر آوے تو میں ایک ہاتھ اس کی طرف آتا ہوں۔اور اگر وہ ہاتھ بھر چل کر آوے تو باع بھر چل کر آتا ہوں اور اگر چل کر آوے تو میں دوڑ کر آتا ہوں۔اس کے علاوہ خود قرآن شریف نے اس مضمون کو لیا جہاں فرماتا ہے اِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (ابراهيم 8) پھر ایک اور جگہ فرماتا ہے وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى (محمد 18) خدا تعالیٰ نے جو قوتیں انسان کو دی ہیں ان سے تو ابھی کام لیا ہی نہیں تو اس کو اور زیادہ مانگنے کی کیا ضرورت پڑ گئی اور ایسی حالت میں کیوں خدا تعالیٰ اسے اور دیوے۔ایسی صورت میں تو اگلا دیا ہوا بھی واپس لے لینا چاہئے کیونکہ اس سے کام نہیں لیا گیا اور خدا داد نعمت کی قدر نہ کی گئی۔تو ايَّاكَ نَعْبُدُ کے یہ معنے ہیں کہ انسان اعتراف کرتا ہے اور عمل کر کے دکھلاتا ہے کہ اے مولیٰ ! جس قدر تو نے اپنے فضل سے عطا کیا ہے اس سے تو کام لے رہا ہوں اور موجودہ نعمت کو زوال 100