نُورِ ہدایت — Page 1048
کو غلبہ عطا ہو جو اجسام پر غلبہ نہیں ہوتا بلکہ دلوں پر غلبہ پر ہوتا ہے، وہ دوسروں کی زندگیاں لے کر غلبہ نہیں ہوتا بلکہ دوسروں کو زندگیاں عطا کر کے غلبہ ہوتا ہے۔اس لئے اسلام کا غلبہ از سر نو روحانی زندگی کا غلبہ ہے، اسلام کا غلبہ وہ قیامت ہے جس میں شیطان پر موت آتی ہے لیکن سچی اور سعید روحیں نئی زندگی پاتی ہیں۔احمدیت کو ہمیشہ اپنی نظریں اس نکتہ کی طرف گاڑے رکھنی چاہئیں اور ایک لمحہ کے لئے بھی اس سے غافل نہیں ہونا چاہئے ورنہ دنیا کی فتوحات ، دنیا کے غلبے، دنیا کے انقلاب ان کو غلط راہوں پر ڈال دیں گے ، ان کی تو جہات کے رخ بدل دیں گے اور ان کو محسوس بھی نہیں ہوگا کہ خدا تعالیٰ نے جو نعمتیں ان کو عطا فرمائی تھیں وہ کس طرح انہوں نے اپنے ہاتھ سے ضائع کردیں۔“ اسی طرح حضور رحمہ اللہ نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : ” خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے لفظوں میں فرمایا ہے آنا الْفَتَاحُ افْتَحُ لَكَ۔تَرَى نَصْرًا عَجِيبًا وَ يَخِرُّونَ عَلَى الْمَسَاجِدِ"۔میں فتاح ہوں۔فتاح کہتے ہیں وہ ذات جو اندھیروں کو روشنی میں پھاڑ کر تبدیل کر دیتی ہے جو جہالت کو علم میں بدل دیتی ہے اور جو معاملات کو کھول دیتی ہے اور قضا جاری کرتی ہے۔چنانچہ فتح الله عَلَيْهِ کا ایک معنی عربی کی لغت کی رو سے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس کو علم و عرفان عطا کیا اور ایک معنی اس کا یہ بھی ہے کہ میں غلبہ عطا کرنے والا ہوں یعنی شرف اور بزرگی اور علم کی چابیاں رکھتا ہوں، ان کے دروازے کھولنے والا ہوں، روشنی کے باب کھولنے والا ہوں اور غلبہ بھی عطا کرنے والا ہوں۔لیکن کس قسم کا غلبہ؟ فرمایا : ترى نَضْرًا عجيبًا۔اے میرے پیارے بندے جو میں نضر تجھے عطا کرنے لگا ہوں وہ عام دنیا کی نظر سے مختلف ہوگی تڑی نَضرا عجیبا تو عجیب ہی قسم کی نصرت دیکھے گا میری طرف سے۔اور وہ کیا ہے؟ وَ يَخِرُّونَ عَلَى الْمَسَاجِدِ۔وہ نصرت اس طرح ہوگی کہ احمدی اپنی مساجد پر، اپنی سجدہ گاہوں پر اوندھے منہ گر جائیں گے۔۔۔۔کیسا پیارا نقشہ کھینچا ہے۔تَرَى نَصْرًا عَجِيْبًا وَ يَخِرُّونَ عَلَى 1048