نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 97 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 97

ہید صحابہ کے زمانہ میں ایک شخص کو جو کسی گاؤں کا نمبر دار تھا سانپ نے ڈسا تھا۔صحابہ نے الحمد شریف پڑھ کر اس کا علاج کیا تھا اور اُسے شفا ہو گئی تھی۔ایسا ہی ابن قیم نے لکھا ہے کہ جب میں مکہ معظمہ میں تھا اور طبیب کی تلاش میرے واسطے مشکل تھی تو میں اکثر الحمد کے ذریعہ اپنی بیماریوں کا علاج کر لیا کرتا تھا۔ابن قیم کا میں بہ سبب اُس کے علم کے معتقد ہوں اور اسے ایسا آدمی جانتا ہوں جو لاکھوں میں ایک ہوتا ہے۔میرا اپنا بھی تجربہ ہے کہ میں نے بہت سے بیماروں پر الحمد کو پڑھا اور انہیں شفا ہوئی۔میں چاہتا ہوں کہ لوگ سوچ سوچ کر الحمد کو نماز میں پڑھا کریں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان 4 فروری 1909ء) کلام الہی کی تین اقسام ہیں۔اول بعض نافہم اور ناخواندہ لوگ اس بات سے ناواقف ہوتے ہیں کہ سر کار و دربار میں کس طرح اور کس مضمون کی درخواست دی جاوے تو اس لئے کوئی دوسرا شخص جو دربار کے آداب اور قانون سے واقف ہو تو اگر وہ ایسی عرضی لکھ دیوے یاوہ مضمون بتلاد یوے جس کی دربار میں شنوائی ہو سکے اور اگر چہ مدعا اور آرزو اسی سائل کا اپنا ہو تو ایسے بتلانے والے اور لکھ دینے والے کو مجرم نہیں قرار دیا جاتا۔دنیاوی گورنمنٹ جو کہ آسمانی گورنمنٹ کا ظل ہوتی ہے اس میں ایسے قواعد ہوتے ہیں بعض فار میں چھپی ہوئی ہوتی ہیں ان پر صرف سائل کے دستخط کرائے جاتے ہیں۔اس کی مثال قرآن شریف میں یہ سورۃ ہے جو بطور عرضی کے ہم کو عطا ہوئی۔دوم جولوگ حکام کی پیشی میں بعہدہ سر رشتہ دار وغیرہ ہوتے ہیں وہ کوئی حکم باضابطہ حاکم کی طرف سے اجازت پا کر لکھ دیا کرتے ہیں وہ بھی اصلی حاکم کا حکم ہی سمجھا جاتا ہے۔اس کی مثال قرآن شریف میں یہ ہے قُل يُعِبَادِيَ الَّذِيْنَ أَسْرَفُوا (الزمر 54) سوم بعض اوقات خودحاکم اپنے پروانہ جات سے براہ راست حکم سنا دیتا ہے اس کی مثال سارا قرآن کریم علی العموم ہے۔کلام کی ان تین قسموں سے یہ امر بخوبی واضح ہوتا ہے کہ سورۃ فاتحہ میں اور قرآن میں إيَّاك 97