نُورِ ہدایت — Page 1039
صفت رحمانیت کے ماتحت قدرت اس پر فضل کرنے سے نہیں رکھتی۔تبلیغ کا بھی رحمانیت سے ایک گونا تعلق ہے کیونکہ تبلیغ کی راہ میں خدا کے بندے آپ سے بعینہ وہ سلوک کرتے ہیں جو بعض ظالم بندے اپنے رحمان خدا سے بھی کر رہے ہوتے ہیں۔چنانچہ آنحضرت معالم نے لوگوں کے ہاتھوں دکھ پر دکھ اٹھائے لیکن آپ بنی نوع انسان کو فائدہ پر فائدہ پہنچاتے چلے گئے اور اپنے عمل سے یہ ثابت کر دکھایا کہ خدا کی صفت رحمانیت سب سے زیادہ آپ کے وجود میں جلوہ گر ہوئی۔پھر رحیمیت ہے۔اس کا ایک تقاضا یہ ہے کہ جب آپ کسی پر رحم کریں، اس کے فائدہ کی بات سوچیں تو ایک دفعہ کر کے بھول نہ جایا کریں۔جس طرح خدا تعالیٰ انسان پر بار بار فضل اور رحم لے کر آتا ہے اسی طرح آپ کے ذریعہ بھی بنی نوع انسان اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور فضل حاصل کریں اور آپ کے اندر بھی صفت رحیمیت جلوہ گر ہو یعنی آپ کی کوشش یہ ہو کہ آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان پر بار بار فضل فرمائے۔چنانچہ تبلیغ کر کے جولوگ بھول جاتے ہیں وہ رحمان بننے کی تو کچھ کوشش کرتے ہیں لیکن رحیم نہیں بن سکتے اور پھلوں کا تعلق رحیمیت سے ہے۔دنیا میں جتنا بھی پھلوں کا نظام ہے اس کا تعلق رحیمیت سے ہے۔رحمانیت وہ مواد عطا کرتی ہے جس کے نتیجہ میں چیزیں جب ایک دوسرے کے ساتھ عمل میں آتی ہیں تو پھل لگ سکتے ہیں اور رحیمیت ہے جو پھل عطا کرتی ہے۔یہ رحیمیت کا تقاضا ہے کہ ہر محنت کا اچھا بدلہ دیتی اور ہر کوشش کے نتیجہ میں اس سے کئی گنا زیادہ عطا کرتی ہے۔چنانچہ آپ دیکھ لیں۔پھلوں کے مضمون میں ہر جگہ آپ کو رحیمیت کا کرشمہ نظر آئے گا۔مثلاً اگر خدا تعالیٰ دنیا میں محنت کا دس گنا یا سو گنا یا سات سو گنا بدلہ نہ دے رہا ہوتا تو یہ ساری زندگی مدتوں سے پہلے فنا ہو چکی تھی۔Evolution یا ارتقا جس رنگ میں بھی ہوا ہے وہ وجود میں ہی نہ آتا۔یہ دراصل رحیمیت کا کرشمہ ہے کہ وہ محنت کا بدلہ دے رہی ہے اور جتنی محنت کی جاتی ہے اس سے کئی گنا زیادہ بدلہ دیتی ہے۔زمیندار کو دیکھیں وہ محنت کر 1039