نُورِ ہدایت — Page 1022
کیسی نادانی اور حماقت ہے۔یہ صرف علم ہی تک بات محدود نہیں رہتی۔دوسرا مرحلہ تصر فاتِ عالم کا ہے۔وہ اس کو مطلق نہیں۔ایک ذرہ پر اُسے تصرف و اختیار نہیں۔غرض ایک بے علمی اور بے بسی تو ساتھ ہے۔پھر بد عملیاں ظلمت کا موجب ہو جاتی ہیں۔انسان جب اولاً گناہ کرتا ہے تو ابتدا میں دلیر نہیں ہوتا ہے۔پھر وہ امر بڑھ جاتا ہے۔اور دین کہلاتا ہے اس کے بعد مہر لگ جاتی ہے۔یہ چھاپا مضبوط ہو جاتا ہے۔قفل لگ جاتا ہے۔پھر یہاں تک نوبت پہنچتی ہے کہ بدی سے پیار اور نیکی سے نفرت کرتا ہے۔خیر کی تحریک ہی قلب سے اُٹھ جاتی ہے۔اس کا ظہور ایسا ہوتا ہے کہ خیر و برکت والی جانوں سے نفرت ہو جاتی ہے۔یا توان کے حضور آنے ہی کا موقعہ نہیں ملتا یا موقعہ تو ملتا ہے لیکن انتفاع کی توفیق نہیں پاتا۔رفتہ رفتہ اللہ سے بعد ، ملائکہ سے دُوری اور پھر وہ لوگ جن کا تعلق ملائکہ سے ہوتا ہے اُن سے بعد ہو کر کٹ جاتا ہے۔اس لئے ہر ایک عقلمند کا فرض ہے کہ وہ تو بہ کرے اور غور کرے۔ماخوذ از حقائق الفرقان زیر تفسیر سورة النصر ) حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: روایات سے ثابت ہے کہ یہ سورۃ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قریب نازل ہوئی تھی پس در حقیقت إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَ الْفَتحُ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی پیشگوئی کی گئی ہے۔یہ بتانے کے لئے کہ یہ فتوحات جو محمد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوئی ہیں ان کا سلسلہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات تک محدود نہیں بلکہ آئندہ بھی ان کا سلسلہ جاری رہے گا۔چنانچہ حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں قیصر روما سے جنگ چھڑی اور پھر حضرت عمرؓ کے زمانہ میں کیسری اور قیصر کو مکمل طور پر شکست ہوگئی۔پس إِذَا جَاءَ نَصْرُ الله وَالْفَتْحُ میں ان فتوحات کا ذکر تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان کے زمانہ میں ہونے والی تھیں۔رض پس سورۃ نصر میں اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ آپ 1022