نُورِ ہدایت — Page 1018
اس کے بعد تیسرے درجہ کے لوگ وہ ہیں کہ جب خدا تعالیٰ کے قہری عذاب نازل ہوتے ہیں اور ہر طرف سے فتوحات اور نصرت کے نشانات نمودار ہوتے ہیں ، تو ان کے واسطے سوائے اس کے چارہ نہیں ہوتا کہ وہ بھی مومنوں کے درمیان شامل ہو جائیں۔اوّل اور دوم درجہ کے لوگوں کی خدا تعالیٰ نے بہت تعریف کی ہے۔اور ان کو رضی اللہ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ (المائده 120) کا خطاب دیا ہے۔مگر تیسرے طبقہ کے لوگوں کا ذکر قرآن شریف میں صرف اتنا ہے کہ رآیت النَّاس تو نے لوگوں کو دیکھا ہے۔کیونکہ وہ عوام ہیں۔خواص میں ان کا ذکر نہیں۔پھر بھی خوش قسمت ہیں کہ قرآن شریف میں ان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا گیا کہ وہ دین اللہ میں داخل ہونے والے لوگ ہیں۔پہلے تو کوئی ایک آدھ مسلمان ہوتا تھا جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تشریف فرما تھے۔بعد میں جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کی تو زیادہ تعداد ہونے لگی۔لیکن پھر بھی ترقی زور کے ساتھ نہ تھی۔یہاں تک کہ جب مکہ فتح ہو گیا تو گروہوں کے گروہ اور جماعتوں کی جماعتیں دین الہی میں داخل ہونے لگیں۔غفر کے معنے ہیں ڈھانکنا۔دبانا۔تمام انبیاء خدا تعالیٰ سے مغفرت مانگا کرتے تھے اور مغفرت مانگنے کے یہ معنی ہیں کہ انسان چونکہ کمزور ہے اس کو معلوم نہیں کہ کونسا کام اس کے واسطے بہتری کا ہے اور کون سا نقصان کا کام ہے اور تکلیف کا راستہ ہے۔پس مغفرت ایک دعا ہے کہ انسان اپنے خدا سے یہ دعا مانگتا ہے کہ وہ اس کے واسطے نیکی کے راہ پر چلنے کے اسباب مہیا کرے جن سے وہ بدی سے بچا رہے اور کسی طرح کے حرج اور تکلیف میں پڑنے سے محفوظ رہے۔خدا تعالیٰ کے انعام کے حاصل کرنے کے واسطے مغفرت کا طلب کرنا نہایت ضروری ہے۔اس سورۃ شریف کا ایک نام تو النصر ہے کیونکہ اس میں ایک نصرت کی بشارت ہے اور اس کا نام فتح بھی ہے۔کیونکہ ایک عظیم الشان فتح کی اس میں پیشگوئی درج ہے جس سے اسلامی سلطنت اور فتوحات کی بنیاد رکھی گئی تھی۔یعنی فتح مگہ۔ان کے علاوہ ایک نام اس 1018