نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1017 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1017

به سبب حجاب کے دینِ الہی میں داخل نہیں ہیں۔اُن کے واسطے وقت آجائے گا کہ تمام روکیں دور ہو کر وہ ایک سیلاب کی طرح اسلام کی طرف دوڑ پڑیں گے اور فوج در فوج لوگ اسلام میں داخل ہونے لگ جائیں گے۔اگر اذا جاء کے معنے استقبال کے نہ لئے جاویں اور اس کے یہ معنے کئے جاویں کہ ” جب فتح ونصرت الہی آگئی تب بھی یہ درست ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی کے جو پیشگوئیاں نازل ہوتی ہیں اور ان میں خدا اپنے بندے کی نصرت اور فتح کی خوشخبری دیتا ہے۔چونکہ وہ بات یقینی ہوتی ہے اور ضرور ہو جانے والی ہے۔کوئی اس کو ٹال نہیں سکتا ہے اور آسمان پر مقدر ہو چکا ہے کہ یہ کام اس طرح سے ہو گا۔اس واسطے اس کو ایسے الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے کہ گویا یہ کام ہو گیا ہے۔کیونکہ کوئی کام زمین پر نہیں ہوسکتا جب تک کہ پہلے آسمان پر نہ ہو لے۔اس کی مثال دنیوی محاورات میں بھی موجود ہے۔جب کسی کو یقین ہو جاوے کہ اس مقدمہ میں تمام امور میری مرضی کے مطابق طے ہو جائیں گے اور میں ضرور فتح پالوں گا تو وہ کہتا ہے کہ بس میں نے مقدمہ فتح کر لیا۔حالانکہ ہنوز مقدمہ زیر بحث ہوتا ہے اور عدالت نے فیصلہ نہیں سنایا ہوتا۔لیکن بہ سبب یقین کے وہ ایسا ہی کہتا ہے کہ مقدمہ فتح ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے نبی رسول دنیا کی طرف مبعوث ہوتا ہے تو اس کا ساتھ دینے والے لوگ تین قسم کے ہوتے ہیں۔اول اور سب سے اعلیٰ طبقہ کے لوگ وہ ہوتے ہیں جو کسی معجزہ ،نشان، کرامت یا خارق عادت کے دیکھنے کے محتاج نہیں ہوتے۔وہ اس نبی کی شکل دیکھتے ہی اور اس کا دعویٰ سنتے ہی اُمَنَّا وَصَدِّقْنَا کہ اٹھتے ہیں۔ان کو نبی کے ساتھ ایک ازلی مناسبت حاصل ہوتی ہے اور وہ فورا اس پر ایمان لاتے ہیں جیسا کہ حضرت صدیق اکبر ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے۔یہ اعلیٰ طبقہ کے آدمیوں کا نمونہ ہے۔اس سے کم درجہ کے لوگ وہ ہیں کہ جو کچھ تھوڑا بہت دلائل سننے اور نشان دیکھنے کے بعد ایمان لے آتے ہیں اور مخالفت کی طرف نہیں دوڑتے اور رفتہ رفتہ محبت اور اخلاص میں بہت ترقی کر جاتے ہیں۔1017