نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1016 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1016

آپ مکہ کی گلیوں میں تنہا پھرا کرتے تھے اور کوئی آپ کی بات نہ سنتا تھا اور پھر ایک وقت وہ تھا کہ جب آپ کے انقطاع کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو یاد دلایا إِذَا جَاءَ نَصْرُ الله وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا۔آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا که فوج در فوج لوگ اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔جب یہ آیت اتری تو آپ نے فرمایا کہ اس سے وفات کی بُو آتی ہے کیونکہ وہ کام جو میں چاہتا تھا وہ تو ہو گیا ہے اور اصل قاعدہ یہی ہے کہ انبیاء علیہم السلام اسی وقت تک دنیا میں رہتے ہیں جب تک وہ کام جس کے لئے وہ بھیجے جاتے ہیں نہ ہولے۔جب وہ کام ہو چکتا ہے تو ان کی رحلت کا زمانہ آجاتا ہے جیسے بندوبست والوں کا جب کام ختم ہو جاتا ہے تو وہ اس ضلع سے رخصت ہو جاتے ہیں۔حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: الحکم جلد 8 نمبر 5 مورخہ 10 فروری 1904 صفحہ3) یہ سورۃ مدنی ہے۔یعنی مدینہ منورہ میں نازل ہوئی تھی۔اس میں بسم اللہ شریف کے بعد تین آیتیں ہیں اور انیس کلمے اور اُناسی حروف ہیں۔ا اذا کے معنے ہیں۔جب کہ۔جب یہ لفظ ماضی پر آوے تو معنے استقبال کے دیتا ہے۔اس واسطے إِذا جَاءَ کے معنے یہ بھی کئے گئے ہیں کہ جب آوے گی کیونکہ یہ سورۃ بطور ایک پیشگوئی کے نازل ہوئی تھی کہ اس وقت تو اسلام تنگی اور تکالیف کی حالت میں ہے اور سب صحابہ مہاجرین کے دل میں یہ خیال ہے کہ وہ اپنے وطنوں میں سے نکالے گئے اور ان کی تعداد قلیل ہے اور ان کے دشمن شہر مکہ میں آرام سے ہیں۔اور اُن پر ہنسی کرتے ہیں۔اور طعن کرتے ہیں کہ تم لوگوں نے اسلام میں داخل ہو کر کیا فائدہ حاصل کر لیا۔دیکھو ہم نے تم کو شہر مکہ سے بھی نکال دیا ہے۔لیکن عنقریب وہ وقت آتا ہے کہ ان کی ساری شیخی کرکری ہو جاوے گی اور ان کے متکبر سب ہلاک ہو جائیں گے۔اور ملکہ کا با عظمت گھر بتوں سے پاک کیا جاوے گا اور اس کے مناروں پر لا إلهَ إِلَّا اللہ کا نعرہ بلند کیا جاوے گا اور کمزور اور ناواقف لوگ جو اس وقت 1016