نظام وصیت — Page 61
61 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ لیتا ہے جو اس کی دھاک بٹھا دیتا ہے۔خواہ وہ کمزور ہی کیوں نہ ہو۔حضرت مسیح موعود فرماتے تھے۔رستم کے گھر میں ایک دفعہ چور آیا وہ رستم سے زیادہ طاقتور تھا لیکن رستم کا نام چونکہ طاقت میں مشہور تھا۔چور کو اس سے کبھی طاقت آزمائی کا موقعہ نہ ملا تھا اس دن جب رستم نے پکڑا تو اس نے رستم کو گرا لیا۔اور اس کی چھاتی پر چڑھ بیٹھا اس پر رستم نے چلا کر کہا آ گیا رستم ! آ گیا رستم ! یہ سنکر چور بھاگ گیا۔یہ رستم کے نام کا اثر تھا کہ اس نے ایسے طاقتور کو بھگا دیا جس نے رستم کو گرایا ہوا تھا۔تو عقبہ کا معاملہ بھی ایک طرح پر اسی رنگ کا ہے۔عقبہ بڑا بہادر تھا۔اور حضرت عمرؓ کے یہ کہلا بھیجنے پر کہ یہ ہزار آدمی کے برابر ہے مسلمانوں کے دل میں تسلی پیدا ہوگئی۔دنیا میں جب کوئی انسان کوئی کام کرتا ہے تو اسے اس کے لئے طاقت بھی مل جاتی ہے یہی حال یہاں بھی ہے۔لیکن کام کرنے کا عزم ہونا چاہیے۔پس ہماری جماعت جو کام کرنے کے لئے خدا نے قائم کی ہے کیونکر ہو سکتا ہے کہ اگر وہ کوئی کام کرنا چاہے تو اسے اس کی طاقت نہ ملے لیکن کام حالات کے لحاظ سے کئے جاتے ہیں۔چونکہ ابتدائی حالات کمزور ہوتے ہیں اس لئے ابتدائی کام بھی ہلکے ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ابتدائی مطالبوں اور آجکل کے مطالبوں میں فرق نظر آتا ہے۔پہلے جو مطالبہ کیا گیا وہ اس کی پہلی حالت کے مطابق تھا پھر جو کیا گیا تو وہ اسکی دوسری حالت کے مطابق تھا۔اسی طرح جیسے جیسے حالت ترقی کرتی چلی گئی۔مطالبے بھی بڑھتے چلے گئے پس یہ تو صحیح نہیں کہ حضرت مسیح موعود سے بڑھ کر مجھے اشاعت کا شوق ہے اور ان سے بڑھ کر مجھے دین کی خدمت کرنے کا خیال ہے۔حضرت مسیح موعود سے بڑھ کر اشاعت اور خدمت دین کا شوق کسے ہوسکتا ہے؟ حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں جاہلیت زیادہ تھی لوگ بالکل ابتدائی حالت میں تھے۔لیکن میرے زمانہ میں جو لوگ ہیں وہ حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفہ اول (اللہ آپ سے راضی ہو ) کے تربیت یافتہ ہیں اس لئے اگر ان سے کوئی زیادہ مطالبات کئے جاتے ہیں تو وہ ان کی ترقی یافتہ حالت کے لحاظ سے ہیں اور پھر ان کو اور بھی ترقی دینے کے لئے ہیں۔دیکھو اگر ایک مالک بیمار خادم سے تھوڑا سا کام لے کر اسے چھوڑ دے