نظام وصیت — Page 60
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 60 مگر جب یہ حالت پیدا ہو رہی ہے تو اس کا یہ بھی تو تقاضا ہے کہ پہلے سے بڑھ کر قربانیوں کی تحریک کرے پس چندہ اور وصیت وغیرہ کی شرح کا بڑھتا چلا جانا۔ایمانی حالت کے ترقی یافتہ ہونے کے نتیجے میں ہے گو یہ ترقی قربانیوں سے حاصل ہو رہی ہے مگر یہ ترقی قربانیوں کے لئے بھی تو ہمت دلا رہی ہے۔کہنے والے یہ تو کہہ دیتے ہیں کہ شرح چندہ بڑھائی جا رہی ہے مگر یہ نہیں دیکھتے کہ اس طرح ان کی ایمانی حالتوں کی تصدیق کی جارہی ہے۔آخر حضرت مسیح موعود نے کثرت سے مال آنے کے متعلق بھی تو ارشاد فرمایا ہے۔کیا اگر جماعت نے اسی حالت پر رہنا ہوتا جس حالت میں وہ حضرت مسیح موعود کے وقت میں تھی تو حضرت مسیح موعود کہہ سکتے تھے کہ کثرت سے مال آئیں گے؟ حضرت صاحب کا یہ کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ جماعت آہستہ آہستہ ترقی کرتی چلی جائے گی اور آخر اس مقام تک پہنچ جائے گی کہ مالوں کی قربانیوں کی ان کے سامنے کوئی حقیقت نہ رہے گی۔قرآن شریف میں آتا ہے کہ دس کا فروں کے مقابلہ میں ایک مسلمان کافی ہے اور مسلمانوں کو کہا بھی گیا ہے کہ تم میں سے ایک ایک کو دس دس کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔مگر باوجود اس کے آنحضرت مالی کے کسی غزوہ میں بھی یہ حالت نہیں ہوئی کہ ایک مسلمان کو دس کا فروں کا مقابلہ کرنا پڑا ہو۔زیادہ سے زیادہ ایک مسلمان کو 1/4-3 کافروں کا مقابلہ کرنا پڑا۔ہاں حضرت عمرؓ کے وقت میں دس سے بھی زیادہ کا مقابلہ کرنا پڑا۔چنانچہ مسلمان ایک جنگ پر گئے ہوئے تھے ابو عبیدہ جرنیل تھے۔مسلمانوں کی تعداد کم تھی۔ابو عبیدہ نے حضرت عمرؓ کو پیغام بھیجا کہ مرد بھیجی جائے۔انہوں نے کہلا بھیجا میں عقبہ کو بھیجتا ہوں۔عقبہ ہزار آدمی کے برابر ہے۔سمجھ لو کہ ہزار آدمی بھیج دیا۔تو حضرت عمر آنحضرت علی سے بڑھ کر قربانی نہیں چاہتے تھے۔بلکہ بات یہ تھی کہ آنحضرت ﷺ کے وقت میں وہ حالات پیدا نہیں ہوئے تھے جو حضرت عمرؓ کے وقت میں پیدا ہو گئے تھے اور ادھر مسلمان بھی ترقی کر گئے۔بعض وقت ایک عمل ہوتا ہے جو دوسرے دل میں رعب ڈال دیتا ہے اگر انسان خطرہ کے وقت اپنے حواس بجار کھے اور اپنی Accumulative Power کا بجا استعمال کرے۔تو ایسا کام بھی کر