نظام وصیت

by Other Authors

Page 59 of 260

نظام وصیت — Page 59

59 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ آمد پر چندہ کر دیا گیا ہے۔اور ابھی اور بھی بڑھانے کا خیال ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ حضرت مسیح موعود نے ایسا ہی فرمایا ہے۔اور یہ بھی ٹھیک ہے کہ بعد میں آنے والوں نے چندہ کی شرح بڑھا دی۔مگر دیکھنا یہ ہے کہ ایسا کیوں کیا جاتا ہے۔میں پہلے بتا چکا ہوں کہ مثیل موسٹی کی ترقی جلد ہوتی ہے اور مثیل عیسی کی بتدریج۔اور چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مثیل عیسی ہیں۔اس نئے یا آپ کے سلسلہ کی ترقی بھی آہستگی کے ساتھ ہونی ہے اور جب ترقی آہستگی کے ساتھ ہونی ہے تو عیسوی سلسلے کی طرح اس کی قربانی بھی آہستہ آہستہ ہوگی جو آہستہ آہستہ بڑھتی رہے گی۔اس وجہ سے ضروری ہے کہ مالی قربانی میں دن بدن اضافہ ہو۔اسی طرح وصیت کا حصہ ہے۔اس کے متعلق بھی کہا گیا ہے کہ یونہی اس کی شرح بڑھائی جارہی ہے۔مگر اس کے متعلق بھی سوچنا چاہیے کہ اگر حضرت مسیح موعود کے وقت وہ شرح نہیں تھی جواب ہے۔اور جس پر لوگ وصیتیں کر رہے ہیں۔تو یہ بھی اسی اصل کے ماتحت ہے کہ یہ ترقی آہستگی کے ساتھ ہوئی تھی۔اور جوں جوں قربانیاں بڑھ رہی ہیں تزکیہ اور طہارت بھی بڑھتی چلی جاتی ہے اور ایمانی حالت میں ترقی ہوتی چلی جارہی ہے۔جو پھر الٹ کر زیادہ قربانی کرنے کا باعث ہوتی ہے۔مجھے اگر سلسلے کی ترقی کے لئے مال زیادہ جمع کرنے کا شوق ہے تو اس سے ہماری جماعت ہی کی شان بڑھتی چلی جاتی ہے۔کیونکہ قربانی میں ترقی کرنے سے ہماری ایمانی حالت اور اخلاص لوگوں کے سامنے آتا ہے۔حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں اس درجہ پر جماعت کی حالت نہیں آئی تھی جس درجہ پر اب ہے اور جس درجہ پر کھڑے ہو کے جماعت کے تمام افراد یکدم بڑی بڑی قربانیاں کر سکتے۔مگر اب جوں جوں زمانہ گذرتا جاتا ہے ایمان اس رنگ میں آتا جاتا ہے جو حضرت مسیح موعود پیدا کرنا چاہتے تھے۔اور گو یہ حالت قربانیوں سے ہی پیدا ہو رہی ہے جو آہستہ آہستہ ہو رہی ہیں۔وو سہو کتابت۔لفظ ” لیے درست معلوم ہوتا ہے