نظام وصیت

by Other Authors

Page 26 of 260

نظام وصیت — Page 26

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 26 چلتا اس کی اگر وصیت کرتا ہے تو وہ وصیت نہیں ہے اس لئے میں نے کارکنوں کو توجہ دلائی ہے کہ اس قسم کی وصیتیں فضول ہیں ان حالات میں چونکہ صاحب جائیدا دلوگوں نے وصیتیں کرنی چھوڑ دی ہیں اس لئے آمد میں کمی آگئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کثرت سے مال آئیں گے۔مگر ہم دیکھتے ہیں نہیں آئے۔وجہ یہ کہ وصیتوں کے متعلق غلط راستہ اختیار کر لیا گیا ہے۔دراصل ایسے رنگ میں اس کی تعمیل ہونی چاہیے کہ وہ لوگ ایک جگہ جمع ہوں جو واقعہ میں قربانی کرنے والے ہوں اور اس کے لئے جائیدادیں رکھنے والوں کو عام تحریک کرتے رہنا چاہیے۔( جماعت احمدیہ کا جدید نظام عمل۔انوار العلوم جلد 9 صفحہ 145,144) بیعت کا صحیح مفہوم ” جب تک اس بات میں خوشی محسوس نہ ہو کہ اسلام کیلئے سب کچھ قربان کر دیا جائے ایمان کامل نہیں ہو سکتا ، بےشک ہماری جماعت پر بہت بوجھ ہے اور وہ بہت کچھ خدا کی راہ میں خرچ کرتی ہے۔مگر جماعت نے ہی سارا بوجھ اُٹھانا ہے غیروں سے تو ہم نے کچھ لینا نہیں۔میں نے ابھی کہا ہے کہ ہماری جماعت نے بہت بوجھ اٹھایا ہوا ہے لیکن جماعت کی مجموعی حالت کو دیکھ کر میں کہہ سکتا ہوں کہ ہماری جماعت نے ابھی اتنی مالی قربانی نہیں کی جتنی پہلی جماعتیں قربانی کرتی رہی ہیں۔میں نے روم میں وہ مقام دیکھا ہے جہاں حضرت مسیح علیہ السلام کے ماننے والے اپنے دشمنوں کی سختیوں اور ظلموں سے بچنے کے لئے رہے۔ہمیں میل کے قریب وہ مقام لمبا ہے۔وہاں عیسائی اپنے گھر بار مال و اموال چھوڑ کر چلے گئے تھے اور وہ فاقے پر فاقے اُٹھاتے تھے۔سورہ کہف میں ان کا نام اصحاب کہف والرقیم رکھا گیا ہے۔ہم چند گھنٹے کے لئے وہاں گئے۔مگر کئی دوست وہاں ٹھہر نا برداشت نہ کر سکے حالانکہ وہ لوگ وہاں کئی سال تک دقیانوس کے وقت رہے۔وہ نہایت تنگ و تاریک گیلی مٹی کے غار ہیں سرکاری فوجوں نے ان میں سے جن کو وہاں مارا ان کی قبریں بھی وہیں بنی ہوئی ہیں اور