نظام وصیت — Page 248
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 248 کروائیں کہ ان کے چندے کی کیا صورتحال ہے؟ ملکی جماعت کا کام ہے کہ مقامی جماعتوں کے سیکرٹریان کو فعال کریں اور ہر موصی ان کے رابطے میں ہو۔بعض دفعہ دیکھنے میں آتا ہے کہ کسی معاملے میں کسی شخص کے بارے میں رپورٹ منگوائی جاتی ہے اور وہ شخص موصی ہوتا ہے۔رپورٹ میں ذکر کر دیا جاتا ہے کہ اس نے اتنے عرصے سے وصیت کا چندہ نہیں دیا۔جب پوچھا جائے کہ وصیت کا چندہ نہیں دیا تو وصیت کس طرح قائم ہے؟ تو پھر تحقیق کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ موصی کا قصور نہیں تھا اس نے تو چندہ دیا تھا لیکن ریکارڈ رکھنے والوں نے دفتر نے صحیح ریکارڈ نہیں رکھا۔ایک تو ایسی رپورٹ بلا وجہ موصی کو پریشان کرنے کا موجب بنتی ہے۔دوسرے جماعتی نظام کی کمزوری کا بھی برا اثر پڑتا ہے۔اب تو ٹھوس حسابات کا انتظام ہو چکا ہے، بڑا Systematic طریقہ ہے، کمپیوٹر ہیں، سب کچھ ہے۔ایسی غلطی ہونی نہیں چاہئے۔ہر ملک کے سیکرٹریان وصایا اور سیکرٹریان مال اپنے ملک کی ہر جماعت کے متعلقہ سیکرٹریان کو فعال کریں اور امراء جماعت کا بھی یہ کام ہے کہ اس کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیتے رہا کریں۔صرف چندہ جمع کرنا اور اس کی رپورٹ کرنا ان کا کام نہیں ہے بلکہ اس نظام کو قابل اعتماد بنانا اور مرکز اور مقامی جماعتی نظام میں مضبوط ربط پیدا کرنا بھی امراء کا کام ہے۔(روزنامه الفضل 23/ اگست 2016 ، صفحہ 6،5