نظام وصیت

by Other Authors

Page 191 of 260

نظام وصیت — Page 191

191 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ کچھ اس کا خزانہ باقی رہتا ہے۔عجیب بات ہے یہ وہم، یہ گمان کیسے اس کے دل میں پیدا ہوتا ہے کہ وہ پکڑا نہیں جائے گا۔اللہ تعالیٰ نے معاملہ کرنا ہے قیامت کے دن اور اسی اصول کے تابع کرنا ہے جو میں نے آپ کے سامنے قرآن کریم کی زبان میں پیش کیا ہے۔جس وقت اس نے یہ حرکت کی اور کجی دکھائی تو وہ پکڑا گیا اور اگر نظام جماعت کے سامنے کوئی ایسا واقعہ آئے تو پھر بھی اس کے لئے کوئی بچنے کی صورت نہیں ہے۔اور بھی کئی قسم کے نقائص ہیں۔تاجر یہ حرکت کرتے ہیں کہ اپنے سارے اخراجات تجارتی کمپنیوں پر ڈال دیتے ہیں اس سے ٹیکس بھی بچتا ہے اور وصیت بھی بچ جاتی ہے۔اور اپنے نام ایک سرسری سی رقم رکھ لیتے ہیں کہ ہم مہینہ میں پانچ سو روپے گھر لے کر گئے تھے اور وصیت پانچ سوروپے پر لکھ پتی ہیں، ہزار ہارو پیدان کا ہفتہ کا خرچ ہورہا ہوتا ہے، اولا دیں اعلی تعلیم حاصل کر رہی ہوتی ہیں، ہر قسم کی نعمتیں حاصل ہیں مگر سب کے سب یا اکثر حصہ وہ کسی نہ کسی کمپنی کے نام کے اوپر کسی حساب میں وصول کیا جا رہا ہوتا ہے۔حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ چاہے ڈائر یکٹر کے نام لکھ دو یا بچوں کے نام پر جو چاہو کرو ، کمانے والے کی اپنی کمائی ہے۔اللہ کو علم ہے کہ کس کی کمائی ہے اور وہ اگر دنیا کے قوانین سے استفادہ کی خاطر یہ حرکتیں کرتا ہے تو بعض دفعہ دنیا کا قانون اجازت بھی دیتا ہے لیکن خدا کے قانون کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا ، وہ دنیا کے قانون کے تابع نہیں ہے، وہ الگ معاملہ کرے گا۔اس لئے ایسے لوگ بھی بعض دفعہ جب نظر پڑتی ہے ان خامیوں کی طرف تو یہ عذر پیش کر دیتے ہیں کہ اچھا جی اب ہم اپنا سابقہ دینے کے لئے تیار ہیں یا بعضوں نے تھوڑی جائیداد لکھوائی اور بعد میں جب جائیداد منفی معلوم ہوئی تو اولاد نے کہہ دیا کہ اچھا ہم اس جائیداد پہ بھی دے دیتے ہیں۔اب والے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصیت کے نظام پر ظلم کریں گے اگر ایسا کروڑ روپیہ بھی وصول کر لیں اور وصیت کو بحال کریں کیونکہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کسی نے عمداً اخفا کیا تھا تو تقویٰ کے اس معیار سے گر گیا جس پر وصیت قبول کی جاتی ہے۔پھر یہ بحث ہی نہیں رہے گی کہ کتنا رو پید اس کی اولا د دینے کے لئے تیار ہے۔اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کوئی شخص اپنی زندگی