نظام وصیت

by Other Authors

Page 190 of 260

نظام وصیت — Page 190

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 190 لئے اس میں کوئی تکبر نہیں ہے کہ کسی کی وصیت رد کی جارہی ہے، اس پر کوئی فضیلت کا اظہار نہیں ہے، اس کی کوئی تحقیر نہیں ہے۔مجبوریاں اور بے اختیار یاں ہیں۔قرآن کریم نے جو حساب مقرر کئے ہیں، جو معیار مقرر کئے ہیں ان کے پیش نظر فیصلہ ہوگا۔یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے کسی کا حال دنیا میں کھول دے اور کسی کا نہ کھولے۔کسی کا کھول کر اسے معاف کر دے اور کسی کا نہ کھولنے کے باوجود معاف نہ کرے۔یہ ایسے معاملات ہیں جن کے اوپر نہ میں فتوی دے سکتا ہوں نہ کبھی کوئی انسان فتوی دے سکے گا۔ان کا اللہ سے تعلق ہے اور اللہ ہی فیصلہ کرنے والا ہے۔لیکن بہر حال ایک اور پہلو بھی ہے کہ عموماً اب تک جو وصیتیں معلق ہو ئیں ان کا تعلق زیادہ تر غرباء سے تھا اور امراء کی وصیت کے پہلو پر زیادہ نظر نہیں کی گئی۔دوسرا وصیت کے مالی پہلو پر تو نظر کی گئی لیکن تقویٰ کے جو معیار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مالی پہلو کے تقویٰ کے علاوہ بھی بیان فرمائے ہیں ان کو زیادہ تر نہیں دیکھا گیا۔اگر چھان بین ہوئی بھی تو یہ کہ جائیداد کتنی تھی ؟ واقعہ کوئی مخفی رکھی گئی یا نہیں رکھی گئی؟ اور یہ نہیں دیکھا گیا کہ جہاں تک عام انسانی نظر کا تعلق ہے دل کا تقویٰ تو خدا جانتا ہے۔جہاں تک انسانی نظر کا تعلق ہے وہ تقویٰ کی ظاہری شرائط کو پورا کرنے والا تھایا نہیں تھا۔اس پہلو پر زور نہیں دیا گیا۔چنانچہ میں نے دفتر وصیت کو اور انجمن کو یہ ہدایت کی ہے کہ ان دونوں استقام کو یعنی جو خامیاں رہ گئی ہیں ان کو دور کیا جائے۔جو امراء ہیں ان کے وصیت کے نقائص اپنے رنگ کے اور ہیں۔مثلاً بعض معاملات علم میں ایسے آتے ہیں کہ ایک شخص خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت صاحب جائیداد ہے لیکن وہ اپنی جائیداد کو اپنی زندگی میں اپنے بچوں کے نام پر خرید رہا ہوتا ہے جو موصی نہیں ہے یعنی یہ نہیں کرتا کہ میں اپنے نام لے کر پھر منتقل کراؤں کیونکہ اس طرح وہ پکڑا جاتا ہے۔وہ سمجھتا ہے قانون کی زد میں آجاؤں گا اور کہا جائے گا تم نے وارث کے نام جائیداد منتقل کی ہے اس لئے اس میں حصہ وصیت دو۔اس لئے شروع سے ہی خریدتے ہی دوسرے کے نام پر ہیں۔لکھوکھا روپیہ کی جائیداد زندگی میں بن رہی ہوتی ہے لیکن بحیثیت موصی کے وہ یا تہی دامن رہتا ہے یا اور بہت معمولی سا جو اس نے پہلے لکھوایا تھا بس وہی