نظام وصیت

by Other Authors

Page 7 of 260

نظام وصیت — Page 7

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بعض خفیف خفیف امتحان بھی رکھے ہوئے تھے جیسا کہ یہ بھی دستور تھا کہ کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی قسم کا مشورہ نہ لے جب تک پہلے نذرانہ داخل نہ کرے۔پس اس میں بھی منافقوں کے لئے ابتلاء تھا۔ہم خود محسوس کرتے ہیں کہ اس وقت کے امتحان سے بھی اعلیٰ درجہ کے مخلص جنہوں نے درحقیقت دین کو دنیا پر مقدم کیا ہے دوسرے لوگوں سے ممتاز ہو جائیں گے۔اور ثابت ہو جائے گا کہ بیعت کا اقرار انہوں نے پورا کر کے دکھلا دیا اور اپنا صدق ظاہر کر دیا۔بے شک یہ انتظام منافقوں پر بہت گراں گزرے گا اور اس سے اُنکی پردہ دری ہوگی۔اور بعد موت وہ مرد ہوں یا عورت اس قبرستان میں ہرگز دفن نہیں ہو سکیں گے فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضاً (البقرة: 11) لیکن اس کام میں سبقت دکھلانے والے راستبازوں میں شمار کئے جائیں گے۔اور ابد تک خدا تعالیٰ کی اُن پر رحمتیں ہونگی۔الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 327 تا 329) نری لاف گزاف سے کیا ہو سکتا ہے میں جانتا ہوں کہ یہ تجویز بھی بہت سے لوگوں کے لیے ابتلاء کا موجب ہوگی لیکن اس بنا سے غرض یہی ہے کہ تا آنیوالی نسلوں کے لیے ایک ایسی قوم کا نمونہ ہو جیسے صحابہ کا تھا اور تا لوگ جانیں کہ وہ اسلام اور اس کی اشاعت کے لیے فدا شدہ تھے۔ابتلاؤں کا آنا ضروری ہے اس سے کوئی بچ نہیں سکتا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ اَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَ هُمُ لَا يُفْتَنُونَ (العنكبوت :3) یعنی کیا لوگ گمان کر بیٹھے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اُن سے اتنی ہی بات پر راضی ہو جاوے اور وہ کہہ دیں کہ ہم ایمان لائے ، حالانکہ وہ ابھی امتحان میں نہیں ڈالے گئے اور پھر دوسری جگہ فرماتا ہے لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (ال عمران: 93) یعنی اس وقت تک تم حقیقی نیکی کو حاصل ہی نہیں کر سکتے جب تک تم اس چیز کو خرچ نہ کرو گے جو تم کو سب سے زیادہ عزیز اور محبوب ہے۔اب غور کرو جبکہ حقیقی نیکی اور رضاء الہی کا حصول ان باتوں کے بغیر ممکن ہی نہیں تو پھر نری لاف گزاف سے کیا ہوسکتا ہے۔صحابہ کا یہ حال تھا کہ ان میں سے مثلاً ابوبکر کاوہ قدم اور صدق تھا کہ سارا مال ہی