نظام وصیت — Page 8
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 8 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔اس کی وجہ کیا تھی ؟ یہ کہ خدا تعالیٰ کے لیے زندگی وقف کر چکے تھے۔اور انہوں نے اپنا کچھ بھی نہ رکھا تھا۔مومن کی بھلائی کے دن بھلے آتے ہیں تو ایسے موقعوں پر جبکہ اس کو کچھ خرچ کرنا پڑے خوش ہوتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ وہ جو ہر صدق وصفا کے جو اب تک چھپے ہوئے تھے ظاہر ہوں گے۔برخلاف اس کے منافق ڈرتا ہے اس لیے کہ وہ جانتا ہے کہ اب اس کا نفاق ظاہر ہو جائے گا۔مومن اور منافق میں امتیاز کا ذریعہ ( ملفوظات۔جلد 4 صفحہ 593,592) یہ قبرستان کا امر بھی اسی قسم کا ہے مومن اس سے خوش ہوں گے اور منافقوں کا نفاق ظاہر ہو جائے گا۔میں نے اس امر کو جب تک تواتر سے مجھ پر نہ کھلا پیش نہیں کیا۔اس میں تو کچھ شک ہی نہیں کہ آخر ہم سب مرنے والے ہیں۔اب غور کرو کہ جولوگ اپنے بعد اموال چھوڑ جاتے ہیں وہ اموال ان کی اولاد کے قبضہ میں آتے ہیں۔مرنے کے بعد انہیں کیا معلوم کہ اولا دکیسی ہو ؟ بعض اوقات اولاد ایسی شریر اور فاسق فاجر نکلتی ہے کہ وہ سارا مال شراب خانوں اور زنا کاری میں اور ہر قسم کے فسق و فجور میں تباہ کیا جاتا ہے اور اس طرح پر وہ مال بجائے مفید ہونے کے مضر ہوتا ہے اور چھوڑنے والے پر عذاب کا موجب ہو جاتا ہے جبکہ یہ حالت ہے تو پھر کیوں تم اپنے اموال کو ایسے موقع پر خرچ نہ کرو جو تمہارے لیے ثواب اور فائدہ کا باعث ہو۔اور وہ یہی صورت ہے کہ تمہارے مال میں دین کا بھی حصہ ہو۔اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ اگر تمہارے مال میں دین کا بھی حصہ ہے تو اس بدی کا تدارک ہو جائے گا جو اس مال کی وجہ سے پیدا ہونی ہو۔یعنی جو بدی اولا د کرتی ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ تم اس بات کو خوب یا درکھو کہ جیسا قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے اور ایسا ہی دوسرے نبیوں نے بھی کہا ہے یہ سچ ہے کہ دولت مند کا بہشت میں داخل ہونا ایسا ہی ہے جیسے اونٹ کا سوئی کے ناکے میں داخل ہونا۔اس کی وجہ یہی