نظام وصیت — Page 94
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 94 سے بھی زیادہ ظلم ہے۔پس کئی ایسے لوگ ہوتے ہیں جو تنگی کی حالت میں بھی دل میں بشاشت پاتے ہیں اور غریب ہو کر بادشاہوں سے بھی زیادہ وسیع الحوصلہ ہوتے ہیں۔یہی لوگ ہیں جن کے لئے اللہ تعالیٰ کی تائید نازل ہوتی ہے کیونکہ مؤمن کی تعریف اللہ تعالیٰ یہی بیان فرماتا ہے۔الَمُ نَشْرَحُ لَكَ صَدْرَكَ (الانشراح : 2) دوسری جگہ فرماتا ہے کہ ہم جن کی بھلائی چاہتے ہیں ان کے سینے کھول دیتے ہیں۔تو ایمان کی علامات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایسے شخص کا سینہ کھل جاتا ہے۔جب قربانی کے بعد دل میں تنگی محسوس ہو، اس وقت سمجھ لینا چاہیے کہ ابھی کامل ایمان حاصل نہیں ہوا، ایمان کی حالت میں انسان بشاشت محسوس کرتا ہے اور ایسی حالت میں اگر ادنیٰ سے ادنی چیز بھی خدا کی راہ میں دی جائے تو وہ مقبول ہو جاتی ہے۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ایک صحابی نے سارا دن مزدوری کی اسے تھوڑے سے دانے اجرت میں ملے اس نے ایک مٹھی دانے رسول کریم کی خدمت میں حاضر کئے۔منافقوں نے یہ دیکھا تو خوب قہقہے لگائے اور کہنے لگے کیا ان دانوں سے ملک فتح ہوں گے۔حالانکہ انہوں نے یہ نہ سمجھا کہ اسے صرف دو مٹھی دانے ملے جن میں سے ایک مٹھی اس نے خدا کی راہ میں دے دیئے۔پس اس کا اخلاص ان لوگوں سے ہزاروں درجے بڑھ کر تھا جو بہت سا رو پیدا اپنے گھر میں رکھتے اور خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔صلى الله مومن ہی وصیت کرتا ہے: تیسرا فرض جس کی طرف میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں ، وہ وصیت کا مسئلہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ وصیت ایمان کی آزمائش کا ذریعہ ہے۔اور وہ اس کے ذریعہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون سچا مومن ہے اور کون نہیں۔ہماری جماعت اس وقت لاکھوں کی تعداد میں ہے۔مگر وصیت کرنے والے صرف دو تین ہزار ہیں۔حالانکہ وصیت ایسی چیز ہے جو یقینی طور پر خدا کا مقرب ہونا ظاہر کرتی ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ مؤمن ہی وصیت کرتا ہے۔لیکن اس میں بھی شبہ نہیں کہ اگر کسی شخص میں کچھ