نظام وصیت — Page 33
33 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ رکھنے اور سب لوگوں کی حاجات کو پورا کرنے کے لئے ضروری ہے۔خلفاء نے اپنے زمانہ کی ضرورت کے لحاظ سے اسلام کے احکام کی تعبیر کی جیسے میں نے بتایا ہے کہ حضرت عمر کے زمانہ میں با قاعده مردم شماری ہوتی تھی ہر شخص کا نام رجسٹروں میں درج ہوتا تھا اور اسلامی بیت المال اس امر کا ذمہ دار ہوتا تھا کہ ہر شخص کی جائز ضروریات کو پورا کرے۔پہلے جس قد ر روپیہ آتا تھا وہ سپاہیوں میں تقسیم کر دیا جاتا تھا مگر حضرت عمرؓ نے کہا کہ ایک اسلامی خزانہ ہو اور دوسرے لوگوں کے بھی حقوق ہیں اس لئے اب تمام روپیہ سپاہیوں میں تقسیم نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کے ایک بہت بڑے حصہ کو محفوظ رکھا جائے گا چنانچہ اس روپیہ سے ملک کے غرباء کو گذارہ دیا جاتا تھا۔غرض خلفاء نے اپنے اپنے زمانہ کی ضرورت کے لحاظ سے اسلام کے احکام کی تعبیر کی مگر موجودہ زمانہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے کسی اور نظام کی ضرورت تھی اور اس نظام کے قیام کے لئے ضروری تھا کہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے اور وہ ان تمام دکھوں اور دردوں کو مٹانے کے لئے ایسا نظام پیش کرے جوز مینی نہ ہو بلکہ آسمانی ہو اور ایسا ڈھانچہ پیش کرے جو ان تمام ضرورتوں کو پورا کر دے جو غرباء کو لاحق ہیں اور دنیا کی بے چینی کو دور کر دے۔اب ہر شخص جو تسلیم کرتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے کسی موعود کی بعثت کی خبر دی ہے، ہر شخص جو تسلیم کرتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ایک مسیح اور مہدی کے آنے کی خوشخبری دی ہے لازماً اسے یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس زمانہ میں جو فتنہ وفساد اور دُکھ نظر آرہا ہے اس کے دور کرنے کا کام بھی اسی ما مور کے سپرد ہونا چاہیے تا کہ وہ نقائص بھی پیدا نہ ہوں جو بالشوزم کے نتیجہ میں پیدا ہوئے ہیں۔وہ نتائج بھی پیدا نہ ہوں جو سوشلزم کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں اور وہ نقائص بھی پیدا نہ ہوں جو نیشنل سوشلزم کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں دنیا کو کھانا بھی مل جائے ، دنیا کو کپڑا بھی مل جائے ، دنیا کو مکان بھی مل جائے ، دنیا کو دوا بھی مل جائے اور دنیا کو تعلیم بھی میسر آ جائے پھر دماغ بھی کمزور نہ ہو، انفرادیت اور عائلیت کے اعلیٰ جذبات بھی تباہ نہ ہوں ظلم بھی نہ ہو، لوگوں کو لوٹا بھی نہ جائے ، امن اور محبت بھی قائم رہے لیکن روپیہ بھی مل جائے۔نظام نو۔انوار العلوم جلد 16 صفحہ 585 تا 587 )