نظام وصیت — Page 86
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 86 کھڑا ہوا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ! شاید آپ کی مراد ہم انصار سے ہے۔آپ نے فرمایا ہاں میرا یہی منشاء ہے۔اس صحابی نے کہا یا رسول اللہ علہ ! جب انسان ایمان لے آئے تو پھر یہ سوال ہی کہاں باقی رہ سکتا ہے کہ میرا معاہدہ کیا ہے اور مجھے کس جگہ لڑنا چاہیے۔خدا کی قسم! اگر آپ سمندر میں ہمیں گھوڑے ڈالنے کے لئے فرما ئیں تو ہم وہاں بھی گھوڑے ڈال دیں اور دنیا کی کسی جگہ پر آپ جائیں کوئی دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکے گا۔آپ کے آگے بھی اور پیچھے بھی دائیں بھی اور بائیں بھی ہم اپنی جانیں لڑا دیں گے اور کوئی شخص آپ تک نہیں پہنچ سکے گا جب تک ہماری لاشوں کو روند تا ہوانہ گزرے۔(بخاری۔کتاب المغازی باب غزوة بدر ) اگر لڑائی ہی کرنی ہے تو بسم اللہ کیجئے ہم آپ کے ساتھ ہیں۔یہ وہ چیز تھی جس کا رسول کریم ﷺ کے ساتھیوں کی اکثریت نے نمونہ دکھایا۔اور ایسی ایک ہی نہیں سینکڑوں بلکہ ہزاروں مثالیں ہمیں تاریخ اسلام سے ملتی ہیں جو قربانی کے ایسے اعلیٰ نمونہ پر مشتمل ہیں کہ دنیا کے پردے پر ان کی نظیر تلاش کرنا محال ہے۔اور یہ صرف صحابہ کی جماعت سے ہی مخصوص نہیں کسی قوم اور کسی جماعت میں ایسی قربانی نظر آئے خواہ وہ دشمن کی جماعت ہی کیوں نہ ہو دل اس کی عظمت سے لبریز ہو جاتا ہے۔غرض یہ وہ نمونے تھے جو ان لوگوں نے دکھائے جو رسول کریم ﷺ کے ساتھی تھے اور پھر اکثریت نے یہ نمونے دکھائے لیکن باوجود اس کے ایک اقلیت ایسی تھی اور ضرور تھی جو اپنے نمونہ میں بالکل حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کی طرح تھی۔جس طرح رسول کریم علیہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مثیل تھے اسی طرح آپ کی جماعت کی ایک اقلیت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کی مثیل تھی۔اور گوانہوں نے زبان سے ایسا کبھی نہیں کہا کہ فَاذْهَبُ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاإِنَّا هَهُنَا قَاعِدُون لیکن اس میں شبہ نہیں کہ عملاً انہوں نے ایسا کئی دفعہ کر کے دکھایا اور جب قربانی کا موقع آیا وہ گریز کر گئے۔ان کے ظاہری بیانات اور ظاہری اخلاص و محبت کی خدا کے حضور کوئی قدر و قیمت نہ تھی۔ان کے ظاہری اخلاص کا قرآن مجید نے بھی نقشہ کھینچا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے کہ جب منافق