نظام وصیت — Page 83
83 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ ہے تو پھر یہ کہنے سے کہ وصیت خاص لوگوں کے لئے ہے اور ان لوگوں کے لئے ہے جو خاص قربانی کر کے خاص درجہ حاصل کریں تو اس میں ابتلاء کی کونسی بات ہے۔یہ ایسی ہی بات ہے کہ گورنمنٹ ایف۔اے میں اس طالب علم کو داخل کرتی ہے جو انٹرنس پاس ہو۔اب کوئی انٹرنس تو پاس نہ کرے اور کہے گورنمنٹ مجھے ایف اے میں داخل نہیں ہونے دیتی اور مجھ پر بڑا ظلم کرتی ہے تو یہ ظلم کس طرح ہوا۔جب تک ایف۔اے میں داخل ہونے کی شرط نہ پوری کی جائے اس وقت تک داخلہ کی اجازت کس طرح مل جائے؟ پس ابتلاء کی کوئی بات نہیں جس شخص نے یہ بات لکھی ہے اسے ابتلاء آیا ہو تو خبر نہیں لیکن اور وں کو نہیں آیا بلکہ وصایا میں بہت زیادہ ترقی ہوئی ہے۔اس وقت میں پھر دوستوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اگر ان میں سے کوئی یہ چاہتا ہے کہ وہ کون سا کام کرے اسے پتہ لگ جائے کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم کر رہا ہے تو وہ علاوہ اور اصلاح کے اپنے مال کے کم از کم ۱۰ / احصہ کی اور زیادہ سے زیادہ ۱/۳ حصہ کی وصیت کرے۔اگر اس کا گزارہ تنخواہ پر ہو تو تنخواہ کے حصہ کی کرے اور اگر جائیداد کی آمدنی پر ہے تو اس کی کرے۔اس کے بعد وہ خدا تعالیٰ کے حضور انہی لوگوں میں رکھا جائے گا جو ایفاء عہد کرتے ہیں۔(خطبات محمود دجلد 11 صفحہ 370 تا 376 ) جماعت سے مخلصین سے قربانیوں کا مطالبہ (فرمودہ 26 اگست 1932ء ) تمام انسانی ترقیات فرمانبرداری کے ساتھ وابستہ تشہد وتعوذ اورسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - تمام انسانی ترقیات اس تعلق اور فرمانبرداری کے ساتھ وابستہ ہیں جو انسان خدا تعالیٰ کے ساتھ پیدا کرتا یا اس کے احکام کی بجا آوری میں جس کا نمونہ دکھاتا ہے۔مونہہ کے خالی الفاظ کبھی انسان کے کام نہیں آتے۔اور صرف ظاہری اخلاص انسان کو کچھ بھی نفع نہیں دے سکتا۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی تعریف میں منافق لوگ وہ کچھ کہا کرتے تھے جو مؤمن بھی نہیں کہتے تھے۔