نظام وصیت — Page 84
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 84 اور بسا اوقات وہ اپنے اخلاص کو ایسے الفاظ میں ظاہر کرتے تھے کہ ایک ناواقف سننے والا انسان دھوکا کھا جاتا تھا اور خیال کرتا تھا کہ شاید ان سے بڑھ کر اور کوئی مومن نہیں لیکن جب کام کا وقت آتا، جب قربانی کا مطالبہ کیا جاتا، جب مال اور جان خطرے میں پڑ جاتا اس وقت وہ لوگ بالکل علیحدہ ہو جاتے اور اس طرح آنکھ پھیر لیتے کہ گویا ان کا رسول کریم ﷺ سے کبھی تعلق ہی نہ تھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے رسول کریم ﷺ کو جو رعب حاصل تھا اور جسکے متعلق آپ خود فرماتے تھے کہ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ (مسند احمد بن حنبل جلد 5 صفحہ 162) مجھے ایسا رعب دیا گیا ہے کہ ایک مہینہ کی مسافت سے ہی اس کا اثر محسوس ہونے لگتا ہے۔اس کی بناء پر منافق یہ تو نہیں کہہ سکتے تھے کہ فَاذْهَبُ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنا ههُنَا قَاعِدُونَ (المائدہ: 25 ) کہ جائو اور تیرا رب دشمنوں سے لڑائی کرو ہم یہیں بیٹھے ہیں۔لیکن عملاً انہوں نے نہ ایک دفعہ بلکہ بارہا ایسا کر کے دکھایا۔وہ مونہہ سے تو فرمانبرداری کا ہی اظہار کرتے تھے لیکن انہی میں سے وہ لوگ تھے جو احد کی جنگ کے موقع پر شہر سے باہر نکلنے کے بعد واپس لوٹ آئے تھے، انہیں میں سے وہ لوگ تھے جو کہا کرتے تھے کہ ہمارے پاس ہتھیار نہیں اس لئے ہم لڑائی کے لئے نہیں نکل سکتے ، انہیں میں سے وہ لوگ تھے جو بہانے بناتے تھے کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں اور انہی میں سے وہ لوگ تھے جو کہا کرتے تھے کہ ہماری فصلیں کاٹنے کے دن ہیں، اس لئے ہم جنگ پر جانے سے معذور ہیں۔وہ اجازتیں طلب کرتے اور درخواستیں کر کر کے رخصتیں حاصل کرتے تھے۔یہ نہیں کہتے تھے کہ ہم نہیں جاتے لیکن بہر حال نتیجہ وہی ہوتا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کے جواب کا تھا۔ہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کی اکثریت نے کہہ دیا تھا کہ ہم لڑائی پر نہیں جاسکتے لیکن رسول کریم ﷺ کے ساتھیوں کی اقلیت نے کہا کہ ہم جنگ پر جانے سے معذور ہیں کیونکہ منافق اس وقت اقلیت میں تھے اکثریت میں نہ تھے اور گوانہوں نے مونہہ سے ایسا کبھی نہیں کہا لیکن عملاً وہی کچھ کیا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں نے کیا۔فرق صرف اتنا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے وقت اکثر نے کہ دیا تھا کہ ہم تیرے ساتھ جنگ پر نہیں جائیں گے اور یہاں اکثر ایسے تھے