نظام وصیت

by Other Authors

Page 81 of 260

نظام وصیت — Page 81

81 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ بے معنی کلام ہو جاتا ہے کیونکہ یہ کبھی خیال میں بھی نہیں آسکتا کہ ایک شخص دین کی بڑی خدمت کرنے والا ، بڑا متقی ہو مگر مادر زاد ننگا رہتا ہو۔اگر اس کے پاس لنگوٹی ہوگی تو وہی اس کا ترکہ ہوگا کیونکہ جو چیز انسان مرنے کے بعد قبر میں نہیں لے جاتا اور پیچھے چھوڑ جاتا ہے وہ اس کا ترکہ ہے۔پس اس طرح کوئی انسان ایسا نظر نہیں آتا جس کی کوئی جائیداد نہ ہو۔کوئی اگر لنگوٹی باندھے رہتا ہوگا تو اسے بھی مرنے کے بعد کفن پہنا دیا جائے گا اور اس کی لنگوٹی قبر سے باہر رہ جائے گی یا اگر اس کی پھٹی پرانی جوتی ہوگی اور وہ قبر سے باہر رہے گی تو وہی ترکہ ہوگا۔پس یہ ناممکن ہے کہ کوئی ایسا انسان ملے جس کی ترکہ کے لحاظ سے کوئی جائیداد نہ ہو۔اور جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ لکھا ہے کہ جس کی جائیداد نہ ہو اس کے مقبرہ بہشتی میں دفن ہونے کا اور طریق ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ جائیداد نہ ہونے سے مراد آمدنی کا نہ ہونا ہے۔یعنی جس کے گزارہ کی کوئی معین صورت نہ ہو وہ بغیر جائیداد کے وصیت کر سکتا ہے۔تھوڑے دن ہوئے مجھے رپورٹ پہنچی تھی کہ کسی شخص نے لکھا ہے وصیت کی اس تشریح کے ماتحت بہت لوگوں کو ابتلاء آرہا ہے۔مگر میرے نزدیک یہ میچ نہیں ہے کیونکہ جتنی وصیتیں اس تشریح کے بعد کی گئی ہیں اتنی کبھی پہلے نہیں کی گئیں۔اگر ابتلاء کا یہی ثبوت ہے تو میں کہوں گا کہ ایسا ابتلاء روز روز آئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: بعد از خدا بعشق محمد مخمرم گر کفر این بود بخدا سخت کافرم کہ خدا تعالیٰ کے بعد اگر محمد اللہ کی محبت کفر ہے تو خدا کی قسم میں بڑا کا فر ہوں۔پس اگر جماعت کے ابتلاء کا یہی ثبوت ہے کہ بہت لوگ صحیح طریق پر وصیتیں کرنے لگ گئے ہیں اور جنہوں نے پہلے ۱/۱۰ حصہ کی وصیت کی ہوئی تھی ان میں سے ۱/۴ اور ۳/ اتک کی وصیتیں کر رہے ہیں تو ایسا ابتلاء روز روز آئے۔ہاں ایسا شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ اسے ابتلاء آیا ہے۔مگر ابتلاء تو تب کہا جائے جب اس بارے میں کسی قسم کا جبر کیا جائے لیکن کون کہہ سکتا ہے کہ وصیت کے کرانے کے لئے جبر کیا جاتا ہے۔