نظام وصیت — Page 77
77 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ کریں؟ پھر جو اقرار کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے تھے وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کا اقرار پورا ہوتا ہے یا نہیں۔ان کی مثال حضرت عائشہ صدیقہ کی سی تھی جو کہ اپنے ایک بھانجے پر جب ناراض ہوئیں تو انہوں نے قسم کھائی اور کہا میں اس سے نہ ملوں گی اور اگر ملوں تو کچھ صدقہ دوں گی اس صدقہ کی انہوں نے تعیین نہ کی تھی۔آخر صحابہ کے دخل دینے اور بھانجے کی معافی مانگ لینے پر انہوں نے اسے معاف کر دیا اور اپنے ہاں آنے کی اجازت دے دی اور اس کے لئے خاص طور پر صدقہ کرتیں مگر باوجود اس کے حسرت کے ساتھ کہتیں معلوم نہیں میں نے جو اقرار کیا تھا وہ پورا ہوا ہے یا نہیں۔میں نے صدقہ کی تعیین کیوں نہ کر دی۔تو بہت سے لوگ حیران تھے کہ انہوں نے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا جو اقرار کیا ہے وہ پورا ہوا ہے یا نہیں تب خدا تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئی اور اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ذریعہ بتایا کہ جو لوگ یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ ان کا اقرار پورا ہوایا نہیں ان کے لئے یہ وصیت کا طریق ہے اس پر عمل کرنے سے وہ اپنے اقرار کو پورا کر سکتے ہیں کیونکہ وصیت میں شرط ہے کہ خدا تعالی کا ارادہ ہے کہ ایسے کامل الایمان ایک ہی جگہ دفن ہوں تا آئندہ نسلیں ایک ہی جگہ ان کو دیکھ کر اپنا ایمان تازہ کریں۔پس یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے بیان فرمودہ طریق پر وصیت کرے اور اس پر قائم رہے مگر کامل الایمان نہ ہو تو وہ لوگ جن کے دل میں عدم اطمینان تھا اور وہ اس وجہ سے بے چین تھے کہ خبر نہیں ان کا اقرار پورا ہوا ہے یا نہیں ان کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے خدا تعالیٰ کے الہام کے ماتحت یہ رکھ دیا کہ وہ وصیت کریں۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں: میں دعا کرتا ہوں کہ خدا اس میں برکت دے اور اس کو بہشتی مقبرہ بنادے۔اور یہ اس جماعت کے پاک دل لوگوں کی خواب گاہ ہو جنہوں نے در حقیقت دین کو دنیا پر مقدم کرلیا۔اور دنیا کی محبت چھوڑ دی۔اور خدا کے لئے ہو گئے۔اور پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کر لی۔اور رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کی طرح وفاداری اور صدق کا نمونہ دکھلایا۔