نظام وصیت

by Other Authors

Page 75 of 260

نظام وصیت — Page 75

75 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ نے کہا تھا آپ نے انصاف کے ماتحت مال کی تقسیم نہیں کی۔آپ نے کہا اگر میں نے انصاف نہیں کیا تو اور کون کر سکتا ہے۔اور پھر فرمایا اس شخص کی نسل سے ایسے لوگ ہوں گے جو دین کو برباد کرنے والے ہوں گے۔قرآن ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا۔کیسا خطر ناک انجام ہوا۔جو کچھ معترض نے کہا ہے اس کا یہی مفہوم ہو سکتا ہے کہ ہم دین کے لئے زیادہ مانگتے ہیں۔مگر یہ کونسی بری بات ہے۔جو جائز تدبیر ہو وہ تو ثواب کا موجب ہے۔مگر ایسی باتیں اپنے نتائج کے لحاظ سے قابلِ اعتراض ہوتی ہیں گو اپنے الفاظ کے لحاظ سے نہ ہو۔دیکھو قرآن کریم میں آتا ہے خدا تعالیٰ مسلمانوں کو فرماتا ہے تم رسول کو راعنا ( البقرہ: 105 ) نہ کہو گو تمہاری نیست اس لفظ سے یہ نہیں کہ رسول کی ہتک کر ومگر یہ لفظ ہتک کرنے والا ہے۔اگر تم اس لفظ کو استعمال کرو گے تو تم سے انعام چھین لئے جائیں گے۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو انبیاء کے متعلق کس قدر غیرت ہوتی ہے۔اور جس طرح اللہ تعالیٰ کو اپنے انبیاء کی غیرت ہوتی ہے۔گو ان کی ذاتی خوبیاں بہت بڑھی ہوئی ہیں اور خلفاء میں ان کے مقابلہ میں کمزوریاں ہوتی ہیں۔ان میں انبیاء کی طرح معصومیت نہیں ہوتی۔مگر جس مقام پر ان کو کھڑا کیا جاتا ہے اس کی غیرت کی وجہ سے ان پر اعتراض کرنے والے بھی ٹھوکر سے نہیں بچ سکتے۔تم میں سے اگر کسی کو اپنے ایمان کی فکر نہ ہو تو نہ ہومگر مجھے ہے۔کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود کی جماعت جیسی سلامت ایمان والی مجھے ملی تھی۔اس سے بڑھ کر چھوڑ کے جاؤں۔پس ایسے الفاظ اپنے منہ سے نہ نکالو جو خدا تعالیٰ کی غیرت کو بھڑ کانے والے ہوں۔اور ایسی باتیں مت کرو جن کا تمہیں صحیح علم نہ ہو۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے هل شققت قلبه (مسلم کتاب الایمان باب من مات لا یشرک باللہ دخل الجنة ) کیا تم نے اس کا سینہ پھاڑ کر دیکھ لیا۔میں کہتا الله ہوں ایک منافق کو جو حق اسلام دیتا ہے وہ خلیفہ کو بھی ضرور ملنا چاہیے۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں ایسا منافق جو تلوار سے جنگ کر رہا ہو وہ بھی اگر کہے کہ میں مسلمان ہوں تو اس کی بات کو قبول کر لینا چاہیے کیونکہ اس کا دل چیر کر کسی نے نہیں دیکھ لیا۔جب یاد نی ترین حق ہے جو اسلام منافق کو بھی دیتا ہے۔تو میں نہیں سمجھتا خلیفہ ہونے پر یہ حق کیونکر اس سے چھینا جا سکتا ہے۔پس ایسی باتیں نہ کروجن کا علم نہ ہو۔